شہید محترمہ بے نظیر بھٹو محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ جمہوریت، انسانی وقار اور محروم طبقات کی طاقتور آواز تھیں،چیئرمین سینیٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 December, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ جمہوریت، انسانی وقار اور محروم طبقات کی طاقتور آواز تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ محترمہ کی شہادت کو کئی برس گزر چکے ہیں، مگر ان کے افکار، جرات اور اخلاقی بصیرت آج بھی قومی شعور میں پوری قوت کے ساتھ زندہ ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو صرف پاکستان پیپلز پارٹی یا پاکستان کی قائد نہیں تھیں بلکہ ایک عالمی سطح کی رہنما تھیں، جن کی شہادت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان تھی۔ وہ جمہوریت، انسانی حقوق، خواتین، مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کی علمبردار تھیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی یومِ شہادت کے موقع پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک عظیم رہنما تھے جنہوں نے اپنے جانشین کے طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کا انتخاب کیا، اور محترمہ نے اپنی جدوجہد، قیادت اور قربانیوں سے یہ ثابت کیا کہ یہ انتخاب بالکل درست تھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے محروم طبقات کو آواز دی، غریب ہاریوں اور پسے ہوئے طبقات کے لیے دن رات جدوجہد کی، اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسی مشن کو آگے بڑھایا۔سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی سیاسی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں تو ان سے ان کی ملاقات ہوئی، جس میں محترمہ نے سیاسی حالات پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ عزت اور اصولوں کے ساتھ سیاست کی اور اسی بنیاد پر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی، اور آج تک اسی نظریے کے ساتھ وابستہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ان پر بھرپور اعتماد کرتی تھیں، اور عوامی خدمت کے اسی جذبے کے تحت انہوں نے نو سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ اللہ تعالی نے انہیں مختلف آئینی عہدوں سے نوازا، جن میں اسپیکر قومی اسمبلی، وزیرِ اعظم پاکستان، چیئرمین سینیٹ اور قائدِ حزبِ اختلاف شامل ہیں، اور ان تمام ذمہ داریوں میں انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اقتدار اور اپوزیشن زندگی کا حصہ ہیں، اصل مقصد ملک کی بہتری اور عوام کی فلاح ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محترمہ بے نظیر بھٹو ہی تھیں جنہوں نے ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لئے اقدامات اٹھائے اور جنرل پرویز مشرف کو وردی اتارنے پر مجبور کیا اور آج ملک میں جو جمہوری تسلسل نظر آتا ہے، وہ محترمہ کے وژن اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت پر نمایاں پیش رفت کی گئی اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے اپنے صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کر کے جمہوریت کی ایک اعلی مثال قائم کی۔ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت کو بھی میثاقِ جمہوریت کا تسلسل قرار دیا۔سید یوسف رضا گیلانی خطاب کے دوران آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو آج بھی ہم سب کے دلوں اور خیالات میں زندہ ہیں، اور ہم سب ان کے مشن اور وژن کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کیے۔ ماضی میں کئی علاقوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق تک حاصل نہ تھا، مگر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے نہ صرف معاشی سہارا فراہم کیا گیا بلکہ سماجی سوچ میں بھی مثبت تبدیلی آئی۔

چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے آمریت، جبر، جلاوطنی اور ذاتی المیوں کے باوجود جمہوریت کا پرچم سربلند رکھا۔ ان کے نزدیکجمہوریت ہی بہترین انتقام ہیمحض ایک نعرہ نہیں بلکہ محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کی عملی جدوجہد تھی۔انہوں نے کہا کہ محترمہ غربت کو صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار سے محرومی سمجھتی تھیں، اور اسی سوچ کا عملی اظہار بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صورت میں سامنے آیا۔ انہوں نے بتایا کہ بطور وزیرِ اعظم پاکستان ان کے دور میں 21 جون 2011 کو بی آئی ایس پی کا افتتاح کیا گیا، جس کا مقصد غریب اور مستحق خاندانوں کو عزت و وقار کے ساتھ معاشی سہارا فراہم کرنا تھا۔ آج بی آئی ایس پی ملک کا سب سے بڑا اور مثر سماجی تحفظ کا پروگرام بن چکا ہے جو تقریبا ایک کروڑ خاندانوں تک پہنچ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ براہِ راست نقد امداد، بے نظیر تعلیمی وظائف اور بے نظیر نشوونما جیسے پروگرامز کے ذریعے غربت میں کمی، غذائی تحفظ، تعلیمی داخلوں اور خواتین کے بااختیار بنانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت ہمدردی، احتساب اور جرات جیسی ان اقدار کی مظہر ہے جو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا اصل ورثہ ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی بی آئی ایس پی کے بانیوں میں شامل ہیں اور اس ادارے کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی قربانیوں کی دنیا میں مثال نہیں ملتی، اور گزشتہ 18 برسوں سے بی آئی ایس پی انہی کے وژن کے مطابق کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ کا واضح پیغام تھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، اور بی آئی ایس پی نے اس تصور کو عملی شکل دی ہے۔سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی کے خواتین کو بااختیار بنانے، بچوں کی تعلیم اور روزگار کے مواقع سے متعلق پروگرامز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہدایت پر روزگار پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جس کی بورڈ سے منظوری بھی ہو چکی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ بی آئی ایس پی ایک لائف سائیکل پروگرام ہے جو محروم طبقات کو معاونت، ریلیف اور مالی امداد فراہم کر رہا ہے، اور جلد ایک نیا پیمنٹ ماڈل متعارف کرایا جائے گا جس کے تحت ایک کروڑ بینک اکاونٹس کھولے جائیں گے، جن کے ذریعے خواتین کو براہِ راست مالی امداد فراہم کی جائے گی۔اختتام پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارلیمنٹ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے جمہوری ورثے اور سماجی انصاف کے مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور پاکستان کو ایک منصفانہ، روشن اور مضبوط جمہوری مستقبل کی جانب رہنمائی عطا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد پر ہنگامہ آرائی، تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد پر ہنگامہ آرائی، تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی صاحب اقتدار دل بڑا کریں، حالات بدلنے کیلئے ملاقات کی بھیک مانگتا ہوں، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کی ملاقات یواے ای یمن میں کسی بھی فریق کوعسکری یا مالی معاونت کا عمل فوری بند کرے، سعودی عرب آئی ایم ایف کا قرض پروگرام کے تحت الیکٹرک گاڑیوں اور بائیکس پر 18فیصد جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ سی ڈی اے نے تین سیکٹرز کے 250 متاثرین کو پلاٹس الاٹ کردئیے ،، D/13,E/13, F/13 کے متاثرین کی دوسری بیلٹنگ 20جنوری کو ہو.

.. TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شہید محترمہ بے نظیر بھٹو انہوں نے کہا کہ محترمہ سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ نے بی آئی ایس پی محروم طبقات کرتے ہوئے خواتین کو نہیں بلکہ کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو