بحری صلاحیتوں سے تاجر برادری بھرپور فائدہ اٹھائے،ریئر ایڈمرل سہیل ارشد
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-06-20
کراچی (کامرس رپورٹر) کمانڈر لاجسٹکس (سی او ایم ایل او جی) اور ڈائریکٹر جنرل نیول ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ (این آر ڈی آئی) ریئر ایڈمرل محمد سہیل ارشد نے پاکستان کی وسیع اورغیر دریافت بحری صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے تاجر برادری پر زور دیا ہے کہ وہ شپنگ، جہاز سازی، آف شور ایکسپلوریشن، میری ٹائم ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور کوسٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں دستیاب بھرپور فائدہ اٹھائے۔ یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر صدر کے سی سی آئی محمد ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، نائب صدر محمد عارف لاکھانی، چیئرمین میری ٹائم افیئرز سب کمیٹی نوشیروان حیدر، سابق صدر کے سی سی آئی مجید عزیز اور ایگزیکٹیو کمیٹی اراکین بھی موجود تھے۔ ڈی جی این آر ڈی آئی نے کہا کہ پاکستان کا میری ٹائم سیکٹر ملک میں اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے سب سے زیادہ امید افزا شعبوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے پاس وسیع ساحلی پٹی، توسیع شدہ ایکسکلوسیو اکنامک زون (ای ای زیڈ)، ابھرتی ہوئی جہاز سازی کی صلاحیت اور پالیسی سطح پر حکومتی تعاون کے پیش نظر پبلک، پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان اشتراک، مقامی جدت اور نجی شعبے کی قیادت ناگزیر ہے جس کے ذریعے پاکستان کے میری ٹائم ڈومین کی مکمل اقتصادی اہمیت کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ریئر ایڈمرل سہیل ارشد نے مزید کہا کہ پاکستان کی ساحلی پٹی براعظمی شیلف پر مبنی ہے جسے چند سال قبل کامیابی سے توسیع دی گئی تھی۔ اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے سمندری قوانین (یو این سی ایل او ایس) 1982 کے تحت پاکستان کی بحری اقتصادی حدود ابتدا میں200 ناٹیکل میل تک تھی تاہم کوئی بھی ساحلی ریاست اگر سمندری وسائل کو200 میل سے آگے دریافت اور استعمال کرنے کی صلاحیت ثابت کرے تو اسے براعظمی شیلف بڑھانے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان نے کامیابی کے ساتھ یہ صلاحیت ثابت کی اور اس کے نتیجے میں اس کا اکنامک زون 350 ناٹیکل میل تک بڑھا دیا گیا۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہ یہ وسیع بحری علاقہ ان تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے جو آف شور ایکسپلوریشن میں سرمایہ کاری کی اہلیت رکھتے ہیں اور خواہش مند ہیں۔ ان مواقع میں تیل، گیس، معدنیات اور دیگر قیمتی وسائل شامل ہیں جنہیں مقامی کوششوں، شراکت داری یا غیر ملکی تعاون کے ذریعے دریافت اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔کراچی چیمبر کے صدر ریحان حنیف نے ریئر ایڈمرل سہیل ارشد کا پُرتباک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کراچی چیمبر اور ملک کی مسلح افواج بشمول پاکستان نیوی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مضبوط اور ادارہ جاتی رابطہ قائم کرنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، سرمایہ کاری اور مجموعی اقتصادی استحکام کے لیے سلامتی و تحفظ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور معاشی اسٹیک ہولڈرز اور سیکورٹی اداروں کے درمیان مستقل رابطہ قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے ریئر ایڈمرل سہیل ارشد کے شاندار بحری کیریئر اور پاکستان نیوی میں مختلف عہدوں پر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کراچی کی تاجر برادری ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ملک کے لیے ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔انہوں نے مئی 2025 میں پاک،بھارت تنازع کے دوران پاکستان کی سمندری سرحدوں کا شاندار دفاع کرنے پر پاکستان نیوی کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے زمینی و فضائی راستوں سے حملوں کی کوششیں کیں لیکن سمندر سے کسی قسم کی جارحیت سامنے نہیں آئی جو پاکستان نیوی کی مضبوط تیاری، مؤثر روک تھام اور اسٹرٹیجک صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ صدر کے سی سی آئی نے بلیو اکانومی کے مواقعوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس وسیع ساحلی پٹی اور بے پناہ بحری صلاحیتیں موجود ہیں لیکن ہمارا ملک اب تک ان مواقعوں سے مکمل طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مربوط منصوبہ بندی، پالیسی تعاون اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے ذریعے اس ساحلی پٹی کو مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ میری ٹائم سیکٹر پاکستان کی اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرسکے۔ ریئر ایڈمرل محمد سہیل ارشد نے بتایا کہ ایک جامع میری ٹائم پالیسی تیار کرلی گئی ہے جو حکومتی سطح پر زیرِ غور ہے اور جلد منظور ہونے کی توقع ہے۔ اس پالیسی فریم ورک کے ساتھ ساتھ مختلف اقدامات بھی عمل میں لائے جارہے ہیں تاکہ تاجر و صنعتکار برادری کو اس شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جا سکے۔انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پاکستان نیوی نے حال ہی میں ایک جامع انڈجینائزیشن پلان منظور کیا ہے جس کے تحت مقامی صنعت کو وسیع پیمانے پر شامل کیا جائے گا۔ انجینئرنگ فرمزاور کاروباری اداروں کو دفاعی سازوسامان کی تیاری میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھایا جاسکے بلکہ مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کی عالمی مارکیٹوں میں برآمدات کو بھی فروغ دیاجاسکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نیوی نے مقامی پرزہ جات استعمال کرتے ہوئے ایک ان مینڈ کومبیٹ ایریل وہیکل (یو سی اے وی) تیار کیا ہے۔ اگرچہ ایک پروٹوٹائپ مکمل ہو چکا ہے لیکن وسیع پیمانے پر پیداوار کے لیے صنعتی سہولیات اور پروڈکشن لائنز درکار ہیں جہاں نجی شعبے کی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔این آر ڈی آئی نے فوجی استعمال کے لیے ٹارگٹ ڈرونز، کواڈ کاپٹرز اور ہیکسا کاپٹرز بھی ڈیزائن کیے ہیں جن کے سول شعبے میں بھی استعمال بھی نمایاں ہیں جن میں لاجسٹکس اور ڈیلیوری سروسز شامل ہیں اور دنیا بھر میں ایمزون اور ای بے جیسی کمپنیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔انہوں نے یہ یقین دلایا کہ جو بھی کاروباری ادارہ ان سٹمز کی تیاری میں دلچسپی رکھتا ہے اسے مکمل تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔ این آر ڈی آئی ایک قومی ڈیزائن اور ریسرچ ہاؤس کے طور پر کام کرتا ہے جہاں تحقیق و ترقی کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ اب ضرورت صرف صنعتی پیمانے پر پیداوار کی ہے۔ انہوں نے جہاز رانی اور جہاز سازی کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں کنٹینر شپ کی تیاری دوبارہ شروع کر دی گئی ہے مزید برآں گوادر میں ایک نیا شپ یارڈ اور پورٹ قاسم کے قریب جہاز سازی کی سہولت قائم کرنے کے منصوبے بھی زیرِ غور ہیں۔جیسے ہی یہ سہولیات فعال ہوں گی پاکستان خطے میں مرچنٹ شپ بلڈنگ کا ایک اہم مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت حاصل کرلے گا جہاں مقامی صنعت ان تمام منصوبوں میں مرکزی اور فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
کراچی: ریئر ایڈمرل سہیل ارشدکراچی چیمبر کے صدر ریحان حنیف سے شیلڈ وصول کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ر ڈی ا ئی پاکستان نیوی کے سی سی ا ئی کراچی چیمبر سرمایہ کاری ہوئے کہا کہ پاکستان کی کہ پاکستان ساحلی پٹی کرتے ہوئے جہاز سازی میری ٹائم انہوں نے ہوئے کہ کے لیے اور اس
پڑھیں:
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
علیمہ خان : فائل فوٹوبانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بہن علیمہ خان نے خیبر پختونخوا کا بجٹ پاس کرنے کی بات پر سہیل آفریدی کو تنبیہ کردی۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا، بانی پی ٹی آئی کی بہن نے کہا کہ آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری ملاقات کروائیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی گورکھ پور ناکے پر پہنچ گئے، سہیل آفریدی سرکاری پروٹوکول میں گورکھ پور ناکے پر پہنچے۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ ڈسکس کرو، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔