عمران نے افغانستان جنگ کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ‘فہیم خان
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے نائب صدر اور سابق رکن قومی اسمبلی فہیم خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں وہ تاریخی کارنامے انجام دیے جو پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں مثال نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نہ صرف ملکی خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا بلکہ عالمی طاقتوں کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان اب کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔ فہیم خان نے کہا کہ بھارت کو منہ توڑ جواب دینا، دشمن کے جنگی جہاز گرا کر پائلٹ کو گرفتار کرنا، ڈرون حملوں کا مکمل خاتمہ، مودی کو دنیا کے سامنے فاش کرنا اور کلبھوشن کو دہشتگردی کی علامت کے طور پر پیش کرنا عمران خان کی جرات مندانہ قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ محاذ پر امریکہ، چین، روس، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات قائم کیے گئے اور افغانستان جنگ کے پرامن خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور میں معیشت نے واضح بہتری دکھائی، برآمدات 21 ارب ڈالر سے بڑھ کر 38 ارب ڈالر تک پہنچیں، ٹیکس وصولی 6000 ارب روپے تک گئی، زرمبادلہ کے ذخائر 31 ارب ڈالر تک بڑھے اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں نے ریکارڈ سرمایہ کاری کی۔ ریکوڈک جرمانے کو تاریخی کامیابی کے ساتھ سرمایہ کاری میں بدلا گیا جبکہ سی پیک میں شفافیت لانے کے لیے اتھارٹی قائم کی گئی۔ فہیم خان نے کہا کہ عمران خان نے عام آدمی کو حقیقی ریلیف دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ عمران خان نے کہا کہ فہیم خان
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔