Islam Times:
2026-06-02@22:27:05 GMT

الجولانی ترکی کیخلاف کس طرح اسرائیل کی مدد کر رہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

الجولانی ترکی کیخلاف کس طرح اسرائیل کی مدد کر رہا ہے؟

اسلام ٹائمز: انقرہ سے شائع ہونے والے اخبار حریت کے تجزیہ کار عبدالقادر سلوی، جو اردوان کے قریب سمجھے جاتے ہیں، نے بھی شام میں پی کے کے کے ذیلی اداروں کی سرگرمیوں کو اسرائیل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ قسد اور اسرائیل کے درمیان کھیل اب بھی جاری ہے۔ جس دن 10 مارچ کو احمد الشرع اور مظلوم عبدی کے درمیان معاہدہ ہوا، میں اوجالان سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے ایک رکن سے بات کر رہا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ اہم پیش رفت ہے اور شام کا مسئلہ ہمارے مذاکرات کا بنیادی حصہ ہے۔ مگر مہینے گزرنے کے باوجود قسد نے انضمام کے وعدے پورے نہیں کیے۔ ترکیہ نے مذاکرات کے تحفظ اور امریکی وعدوں پر اعتماد کی خاطر اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کیا، دباؤ بڑھایا اور فوجی آپشن کو تیار رکھا۔ لیکن قسد اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بدستور قائم ہے۔ خصوصی رپورٹ:

شام کی فوج میں قسد کے انضمام پر ترکیہ کا مؤقف کیا ہے یا انضمام وقت خریدنے کا حربہ یا باقاعدہ بغاوت؟۔ ترکیہ میں صدر اردوان کے قریبی حلقے کے اہم ارکان کا ماننا ہے کہ شامی کرد ملیشیاؤں قسد (SDF) کو شامی فوج میں ضم کرنے کے طریقۂ کار پر ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ گروہ دانستہ طور پر تاخیر اور وقت گزار رہا ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق ترکیہ میں امن مذاکرات اور کالعدم دہشت گرد تنظیم پی کے کے کے مکمل اسلحہ چھوڑنے کے معاملے پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی توقعات کے برعکس، اس معاملے کا سب سے بڑا چیلنج پی کے کے کے ارکان کی واپسی نہیں بلکہ اصل رکاوٹ شمالی شام میں پیدا ہو گئی ہے۔

یہی وہ علاقہ ہے جہاں پی کے کے سے وابستہ مسلح ذیلی تنظیمیں قسد (شامی ڈیموکریٹک فورسز) اور ی پی جی (عوامی دفاعی یونٹس) کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار مسلح افراد پر مشتمل فورس رکھتی ہیں۔ 10 مارچ کو قسد کے کمانڈر مظلوم عبدی اور شام کی عبوری حکومت کے صدر احمد الشرع کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق، تمام شامی کرد ملیشیاؤں کو شامی فوج میں ضم ہونا تھا، مگر یہ منصوبہ عملاً رک چکا ہے اور انضمام کی کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ کردوں کا کہنا تھا کہ وہ تین ڈویژنوں اور دو آزاد بریگیڈز کی صورت میں شامی وزارت دفاع میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور ایسا عمل وقت طلب ہے۔

تاہم انقرہ کے حکام نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس خیال کو قبول کرنا شام کی تقسیم کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہوگا۔ ترکیہ کے قدامت پسند تجزیہ کار یوسف ضیا جومرت کہتے ہیں کہ شام میں غیرمرکزی سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ بنانا صرف قسد کا مطالبہ ہے۔ نہ انقرہ اس سے متفق ہے اور نہ ہی دمشق۔ اسی لیے ترک سفارتی وفد نے کچھ عرصہ قبل دہوک شہر کو فوری طور پر چھوڑ دیا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ مظلوم عبدی بھی دہوک کانفرنس میں شریک ہوں گے تو ان کی گاڑی کے پہنچنے سے پہلے ہی وفد وہاں سے روانہ ہو گیا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ اس معاملے پر ترکیہ کا مؤقف سخت اور واضح ہے۔

غیر مرکزی سیاسی ڈھانچے کے علاوہ قسد کی آزاد فوجی ڈویژنوں کو شامی فوج میں شامل کرنا بھی غیر منطقی اور ناقابل قبول ہے۔ اسی دوران ترکیہ کے وزیرِ دفاع یاشار گولر نے کہا کہ ہمارے نزدیک قسد فورسز کو جلد از جلد دہشت گرد عناصر سے الگ ہو کر شامی فوج میں ضم ہونا چاہیے۔ شام میں استحکام اور سلامتی کا قیام ہماری قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔ ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ انضمام کا عمل مبہم اور لامتناہی بیانات کے بجائے ایک واضح، قابلِ عمل اور لازمی روڈ میپ کے تحت ہونا چاہیے۔ انہیں علیحدگی پسند اور وفاق مخالف بیانیے ترک کر کے مرکزی اقتدار سے جڑنا ہوگا اور متوازی سکیورٹی ڈھانچوں کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔ اگر ضرورت پڑی تو کسی سے اجازت لیے بغیر ہر ضروری اقدام کریں گے۔

ترکیہ کے شہر یالووا میں ایک خفیہ ٹھکانے پر داعش کے عناصر کے ساتھ پولیس مقابلے میں تین ترک اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد، حکومت کے قریب اخبار ینی شفق نے دعویٰ کیا کہ یہ عناصر قسد کی مدد سے ہول کیمپ سے ترکیہ منتقل کیے گئے تھے۔ اسی طرح اخبار آیدنلک نے رپورٹ کیا کہ قسد کے کمانڈر صہیونی رژیم کے ساتھ مل کر ترکیہ کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایسے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ترکیہ کے اندر ایک سیاسی و سکیورٹی دھڑا قسد کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب قسد کے شامی فوج میں انضمام کی مہلت 2025 کے اختتام تک تھی اور ترکیہ شدید معاشی بحران سے بھی دوچار ہے، جس کے باعث کسی جنگ کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

امریکہ مظلوم عبدی کو اٹھا کر دمشق لے گیا:
عراق کے کردستان ریجن کے صدر نیچروان بارزانی کے قریب سمجھے جانے والے ٹی وی چینل روداو نے اطلاع دی ہے کہ مظلوم عبدی دو دن قبل امریکیوں کی خصوصی حفاظت میں دوبارہ دمشق گئے اور احمد الشرع سے مذاکرات کیے، تاہم ان مذاکرات کے نتائج تاحال سامنے نہیں آئے۔ شام کے لیے ٹرمپ کے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے بھی اس بارے میں میڈیا کو کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ ایسے ماحول میں ترکیہ کے حکام اور معروف سیاستدان ایک بار پھر دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔ اردوان کے قریبی ساتھیوں میں شامل وزیر خارجہ حاکان فیدان اور حکمران جماعت میں اردوان کے نائب عمر چلیک کا ماننا ہے کہ قسد کے انضمام پر مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور یہ گروہ جان بوجھ کر وقت ضائع کر رہا ہے۔

تاہم قوم پرست تحریک پارٹی کے رہنما دولت باغچلی کے نائب سمیح یالچن نے زیادہ سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جو خوش گفتاری سے قطار میں نہ آئے، اسے مار پڑنی چاہیے۔ یہ کنایہ اس بات کی علامت ہے کہ پس پردہ کشمکش ابھی ختم نہیں ہوئی اور ترکیہ دوبارہ دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ سمیح یالچن نے کہا کہ قسد فورسز ابھی گھٹنے نہیں ٹیکے اور ترکیہ کی جنوبی سرحدوں پر سلامتی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ جو نصیحت سے باز نہ آئیں وہ سزا کے مستحق ہیں۔ ترکیہ میں ان عناصر سے نمٹنے کی طاقت اور ارادہ موجود ہے۔ ہم شامی پی کے کے، داعش اور گولن تحریک جیسے تمام دہشت گرد عناصر کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جو لوگ سفارت کاری اور نصیحت نہیں سمجھتے، ان کا انجام تباہی ہے۔

اصل کھلاڑی اسرائیل ہے:
انقرہ سے شائع ہونے والے اخبار حریت کے تجزیہ کار عبدالقادر سلوی، جو اردوان کے قریب سمجھے جاتے ہیں، نے بھی شام میں پی کے کے کے ذیلی اداروں کی سرگرمیوں کو اسرائیل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ قسد اور اسرائیل کے درمیان کھیل اب بھی جاری ہے۔ جس دن 10 مارچ کو احمد الشرع اور مظلوم عبدی کے درمیان معاہدہ ہوا، میں اوجالان سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے ایک رکن سے بات کر رہا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ اہم پیش رفت ہے اور شام کا مسئلہ ہمارے مذاکرات کا بنیادی حصہ ہے۔ مگر مہینے گزرنے کے باوجود قسد نے انضمام کے وعدے پورے نہیں کیے۔ ترکیہ نے مذاکرات کے تحفظ اور امریکی وعدوں پر اعتماد کی خاطر اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کیا، دباؤ بڑھایا اور فوجی آپشن کو تیار رکھا۔ لیکن قسد اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بدستور قائم ہے۔ اسرائیل نے سویدا میں دروزیوں اور لاذقیہ میں علویوں کو بھڑکانے کے ساتھ داعش کا کارڈ بھی کھیلا۔ داعش دوبارہ سرگرم ہوئی اور خونریز حملے شروع کیے۔ اصل مقصد شام کو غیر مستحکم کرنا، قسد کے انضمام کو روکنا اور ملک کو دوبارہ خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا ہے۔

اخبار حریت کے مطابق، 7 دسمبر کو شامی وزیر دفاع ابو قصرة نے 10 مارچ کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مظلوم عبدی کو ایک خط بھیجا جس میں درج ذیل نکات شامل تھے:
1۔ دمشق حکومت رَقہ، حسکہ اور دیرالزور میں تین فوجی ڈویژنوں کے قیام پر متفق ہے۔
2۔ یہ ڈویژن وزارت دفاع کے ماتحت ہوں گے اور احکامات دمشق سے لیں گے، قسد سے نہیں۔
3۔ سرحدی گزرگاہیں اور بارڈر مرکزی حکومت کے حوالے کیے جائیں۔
4۔ تیل، گیس اور زیرِ زمین وسائل متعلقہ وزارتوں کے سپرد کیے جائیں۔
5۔ عملی انتظامی علیحدگی کا خاتمہ ہو اور قسد کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے سرکاری ادارے دمشق کی وزارتوں سے منسلک ہوں۔

20 دسمبر کو قسد نے اس خط کے جواب میں درج ذیل مطالبات پیش کیے:
1۔ تین آزاد ڈویژنوں کے ساتھ ساتھ تین آزاد بریگیڈز (خواتین تحفظ بریگیڈ، انسداد دہشت گردی بریگیڈ، اور سرحدی محافظ بریگیڈ) برقرار رکھی جائیں۔
2۔ قسد کے 35 کمانڈروں اور افسران کو وزارت دفاع اور شامی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف میں عہدے دیے جائیں۔
3۔ مشرقی علاقوں کی نمائندگی کے لیے وزیر دفاع کے ساتھ ایک خصوصی نائب مقرر کیا جائے۔
4۔ سرحدیں مرکزی حکومت کے حوالے نہیں کی جائیں گی۔
5۔ تیل، مقامی نظم و نسق اور اداروں کی منتقلی جیسے امور کو فوجی انضمام سے الگ سیاسی مذاکرات میں طے کیا جائے۔
6۔ شام میں نیا آئین بنایا جائے جو غیرمرکزی حکمرانی کو تسلیم کرے اور عوام کو خود انتظامی حق دے۔
اخبار حریت کے مطابق، دمشق حکام نے ترک ہم منصبوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ قسد کا یہ جواب مایوس کن ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنا نہایت مشکل، بلکہ شاید ناممکن ہو چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قسد اور اسرائیل اردوان کے قریب اخبار حریت کے شامی فوج میں ہوئے کہا کہ پی کے کے کے مظلوم عبدی احمد الشرع ہونے والے کے درمیان نے کہا کہ ترکیہ کے حکومت کے کے مطابق اور شام کو شامی کے ساتھ نہیں کی ہیں اور کر رہا کہ قسد ہے اور قسد کے رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

پاکستان نے تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں بھی ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان کے کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی ہے۔قومی ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی کا کہنا تھا آسٹریلیا کے خلاف پہلا ون ڈے جیتنے والی ٹیم کو ہی برقرار رکھا گیا ہے۔خیال رہے کہ پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے شکست دی تھی، تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال