Islam Times:
2026-07-24@01:06:32 GMT

الجولانی ترکی کیخلاف کس طرح اسرائیل کی مدد کر رہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

الجولانی ترکی کیخلاف کس طرح اسرائیل کی مدد کر رہا ہے؟

اسلام ٹائمز: انقرہ سے شائع ہونے والے اخبار حریت کے تجزیہ کار عبدالقادر سلوی، جو اردوان کے قریب سمجھے جاتے ہیں، نے بھی شام میں پی کے کے کے ذیلی اداروں کی سرگرمیوں کو اسرائیل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ قسد اور اسرائیل کے درمیان کھیل اب بھی جاری ہے۔ جس دن 10 مارچ کو احمد الشرع اور مظلوم عبدی کے درمیان معاہدہ ہوا، میں اوجالان سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے ایک رکن سے بات کر رہا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ اہم پیش رفت ہے اور شام کا مسئلہ ہمارے مذاکرات کا بنیادی حصہ ہے۔ مگر مہینے گزرنے کے باوجود قسد نے انضمام کے وعدے پورے نہیں کیے۔ ترکیہ نے مذاکرات کے تحفظ اور امریکی وعدوں پر اعتماد کی خاطر اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کیا، دباؤ بڑھایا اور فوجی آپشن کو تیار رکھا۔ لیکن قسد اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بدستور قائم ہے۔ خصوصی رپورٹ:

شام کی فوج میں قسد کے انضمام پر ترکیہ کا مؤقف کیا ہے یا انضمام وقت خریدنے کا حربہ یا باقاعدہ بغاوت؟۔ ترکیہ میں صدر اردوان کے قریبی حلقے کے اہم ارکان کا ماننا ہے کہ شامی کرد ملیشیاؤں قسد (SDF) کو شامی فوج میں ضم کرنے کے طریقۂ کار پر ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ گروہ دانستہ طور پر تاخیر اور وقت گزار رہا ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق ترکیہ میں امن مذاکرات اور کالعدم دہشت گرد تنظیم پی کے کے کے مکمل اسلحہ چھوڑنے کے معاملے پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی توقعات کے برعکس، اس معاملے کا سب سے بڑا چیلنج پی کے کے کے ارکان کی واپسی نہیں بلکہ اصل رکاوٹ شمالی شام میں پیدا ہو گئی ہے۔

یہی وہ علاقہ ہے جہاں پی کے کے سے وابستہ مسلح ذیلی تنظیمیں قسد (شامی ڈیموکریٹک فورسز) اور ی پی جی (عوامی دفاعی یونٹس) کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار مسلح افراد پر مشتمل فورس رکھتی ہیں۔ 10 مارچ کو قسد کے کمانڈر مظلوم عبدی اور شام کی عبوری حکومت کے صدر احمد الشرع کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق، تمام شامی کرد ملیشیاؤں کو شامی فوج میں ضم ہونا تھا، مگر یہ منصوبہ عملاً رک چکا ہے اور انضمام کی کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ کردوں کا کہنا تھا کہ وہ تین ڈویژنوں اور دو آزاد بریگیڈز کی صورت میں شامی وزارت دفاع میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور ایسا عمل وقت طلب ہے۔

تاہم انقرہ کے حکام نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس خیال کو قبول کرنا شام کی تقسیم کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہوگا۔ ترکیہ کے قدامت پسند تجزیہ کار یوسف ضیا جومرت کہتے ہیں کہ شام میں غیرمرکزی سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ بنانا صرف قسد کا مطالبہ ہے۔ نہ انقرہ اس سے متفق ہے اور نہ ہی دمشق۔ اسی لیے ترک سفارتی وفد نے کچھ عرصہ قبل دہوک شہر کو فوری طور پر چھوڑ دیا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ مظلوم عبدی بھی دہوک کانفرنس میں شریک ہوں گے تو ان کی گاڑی کے پہنچنے سے پہلے ہی وفد وہاں سے روانہ ہو گیا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ اس معاملے پر ترکیہ کا مؤقف سخت اور واضح ہے۔

غیر مرکزی سیاسی ڈھانچے کے علاوہ قسد کی آزاد فوجی ڈویژنوں کو شامی فوج میں شامل کرنا بھی غیر منطقی اور ناقابل قبول ہے۔ اسی دوران ترکیہ کے وزیرِ دفاع یاشار گولر نے کہا کہ ہمارے نزدیک قسد فورسز کو جلد از جلد دہشت گرد عناصر سے الگ ہو کر شامی فوج میں ضم ہونا چاہیے۔ شام میں استحکام اور سلامتی کا قیام ہماری قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔ ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ انضمام کا عمل مبہم اور لامتناہی بیانات کے بجائے ایک واضح، قابلِ عمل اور لازمی روڈ میپ کے تحت ہونا چاہیے۔ انہیں علیحدگی پسند اور وفاق مخالف بیانیے ترک کر کے مرکزی اقتدار سے جڑنا ہوگا اور متوازی سکیورٹی ڈھانچوں کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔ اگر ضرورت پڑی تو کسی سے اجازت لیے بغیر ہر ضروری اقدام کریں گے۔

ترکیہ کے شہر یالووا میں ایک خفیہ ٹھکانے پر داعش کے عناصر کے ساتھ پولیس مقابلے میں تین ترک اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد، حکومت کے قریب اخبار ینی شفق نے دعویٰ کیا کہ یہ عناصر قسد کی مدد سے ہول کیمپ سے ترکیہ منتقل کیے گئے تھے۔ اسی طرح اخبار آیدنلک نے رپورٹ کیا کہ قسد کے کمانڈر صہیونی رژیم کے ساتھ مل کر ترکیہ کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایسے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ترکیہ کے اندر ایک سیاسی و سکیورٹی دھڑا قسد کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب قسد کے شامی فوج میں انضمام کی مہلت 2025 کے اختتام تک تھی اور ترکیہ شدید معاشی بحران سے بھی دوچار ہے، جس کے باعث کسی جنگ کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

امریکہ مظلوم عبدی کو اٹھا کر دمشق لے گیا:
عراق کے کردستان ریجن کے صدر نیچروان بارزانی کے قریب سمجھے جانے والے ٹی وی چینل روداو نے اطلاع دی ہے کہ مظلوم عبدی دو دن قبل امریکیوں کی خصوصی حفاظت میں دوبارہ دمشق گئے اور احمد الشرع سے مذاکرات کیے، تاہم ان مذاکرات کے نتائج تاحال سامنے نہیں آئے۔ شام کے لیے ٹرمپ کے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے بھی اس بارے میں میڈیا کو کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ ایسے ماحول میں ترکیہ کے حکام اور معروف سیاستدان ایک بار پھر دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔ اردوان کے قریبی ساتھیوں میں شامل وزیر خارجہ حاکان فیدان اور حکمران جماعت میں اردوان کے نائب عمر چلیک کا ماننا ہے کہ قسد کے انضمام پر مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور یہ گروہ جان بوجھ کر وقت ضائع کر رہا ہے۔

تاہم قوم پرست تحریک پارٹی کے رہنما دولت باغچلی کے نائب سمیح یالچن نے زیادہ سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جو خوش گفتاری سے قطار میں نہ آئے، اسے مار پڑنی چاہیے۔ یہ کنایہ اس بات کی علامت ہے کہ پس پردہ کشمکش ابھی ختم نہیں ہوئی اور ترکیہ دوبارہ دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ سمیح یالچن نے کہا کہ قسد فورسز ابھی گھٹنے نہیں ٹیکے اور ترکیہ کی جنوبی سرحدوں پر سلامتی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ جو نصیحت سے باز نہ آئیں وہ سزا کے مستحق ہیں۔ ترکیہ میں ان عناصر سے نمٹنے کی طاقت اور ارادہ موجود ہے۔ ہم شامی پی کے کے، داعش اور گولن تحریک جیسے تمام دہشت گرد عناصر کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جو لوگ سفارت کاری اور نصیحت نہیں سمجھتے، ان کا انجام تباہی ہے۔

اصل کھلاڑی اسرائیل ہے:
انقرہ سے شائع ہونے والے اخبار حریت کے تجزیہ کار عبدالقادر سلوی، جو اردوان کے قریب سمجھے جاتے ہیں، نے بھی شام میں پی کے کے کے ذیلی اداروں کی سرگرمیوں کو اسرائیل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ قسد اور اسرائیل کے درمیان کھیل اب بھی جاری ہے۔ جس دن 10 مارچ کو احمد الشرع اور مظلوم عبدی کے درمیان معاہدہ ہوا، میں اوجالان سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے ایک رکن سے بات کر رہا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ اہم پیش رفت ہے اور شام کا مسئلہ ہمارے مذاکرات کا بنیادی حصہ ہے۔ مگر مہینے گزرنے کے باوجود قسد نے انضمام کے وعدے پورے نہیں کیے۔ ترکیہ نے مذاکرات کے تحفظ اور امریکی وعدوں پر اعتماد کی خاطر اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کیا، دباؤ بڑھایا اور فوجی آپشن کو تیار رکھا۔ لیکن قسد اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بدستور قائم ہے۔ اسرائیل نے سویدا میں دروزیوں اور لاذقیہ میں علویوں کو بھڑکانے کے ساتھ داعش کا کارڈ بھی کھیلا۔ داعش دوبارہ سرگرم ہوئی اور خونریز حملے شروع کیے۔ اصل مقصد شام کو غیر مستحکم کرنا، قسد کے انضمام کو روکنا اور ملک کو دوبارہ خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا ہے۔

اخبار حریت کے مطابق، 7 دسمبر کو شامی وزیر دفاع ابو قصرة نے 10 مارچ کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مظلوم عبدی کو ایک خط بھیجا جس میں درج ذیل نکات شامل تھے:
1۔ دمشق حکومت رَقہ، حسکہ اور دیرالزور میں تین فوجی ڈویژنوں کے قیام پر متفق ہے۔
2۔ یہ ڈویژن وزارت دفاع کے ماتحت ہوں گے اور احکامات دمشق سے لیں گے، قسد سے نہیں۔
3۔ سرحدی گزرگاہیں اور بارڈر مرکزی حکومت کے حوالے کیے جائیں۔
4۔ تیل، گیس اور زیرِ زمین وسائل متعلقہ وزارتوں کے سپرد کیے جائیں۔
5۔ عملی انتظامی علیحدگی کا خاتمہ ہو اور قسد کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے سرکاری ادارے دمشق کی وزارتوں سے منسلک ہوں۔

20 دسمبر کو قسد نے اس خط کے جواب میں درج ذیل مطالبات پیش کیے:
1۔ تین آزاد ڈویژنوں کے ساتھ ساتھ تین آزاد بریگیڈز (خواتین تحفظ بریگیڈ، انسداد دہشت گردی بریگیڈ، اور سرحدی محافظ بریگیڈ) برقرار رکھی جائیں۔
2۔ قسد کے 35 کمانڈروں اور افسران کو وزارت دفاع اور شامی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف میں عہدے دیے جائیں۔
3۔ مشرقی علاقوں کی نمائندگی کے لیے وزیر دفاع کے ساتھ ایک خصوصی نائب مقرر کیا جائے۔
4۔ سرحدیں مرکزی حکومت کے حوالے نہیں کی جائیں گی۔
5۔ تیل، مقامی نظم و نسق اور اداروں کی منتقلی جیسے امور کو فوجی انضمام سے الگ سیاسی مذاکرات میں طے کیا جائے۔
6۔ شام میں نیا آئین بنایا جائے جو غیرمرکزی حکمرانی کو تسلیم کرے اور عوام کو خود انتظامی حق دے۔
اخبار حریت کے مطابق، دمشق حکام نے ترک ہم منصبوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ قسد کا یہ جواب مایوس کن ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنا نہایت مشکل، بلکہ شاید ناممکن ہو چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قسد اور اسرائیل اردوان کے قریب اخبار حریت کے شامی فوج میں ہوئے کہا کہ پی کے کے کے مظلوم عبدی احمد الشرع ہونے والے کے درمیان نے کہا کہ ترکیہ کے حکومت کے کے مطابق اور شام کو شامی کے ساتھ نہیں کی ہیں اور کر رہا کہ قسد ہے اور قسد کے رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم