مسلمان علما کو بھی عمامہ پر ہیلمٹ سے استثنا دیا جائے، شفیق اللہ صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
جے یو پی (نورانی) کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر اقلیتوں کے مذہبی شعائر کے احترام میں قانون میں نرمی ممکن ہے تو مسلمانوں کے مذہبی شعار کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ میلاد کونسل کے چیئرمین خواجہ پیر شفیق اللہ صدیقی البدری نے کہا ہے کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا سکھ کمیونٹی کو پگڑی کی بنیاد پر ہیلمٹ سے استثنا دینے کا اعلان قابلِ تحسین ہے، تاہم اسی اصول کے تحت مسلمان علما کے مذہبی شعار عمامہ کو بھی ہیلمٹ کی پابندی سے مستثنی قرار دیا جانا چاہیے کیوں عمامہ پہننا سنت رسول اور مسلمانوں کی شان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے، یہاں اکثریتی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، اس لیے انصاف اور مساوات کا تقاضا ہے کہ عمامہ پہننے والے علما کو ہیلمٹ نہ پہننے پر چالان اور جرمانے سے استثنا دیا جائے خواجہ پیر شفیق اللہ صدیقی البدری کا کہنا تھا کہ اگر اقلیتوں کے مذہبی شعائر کے احترام میں قانون میں نرمی ممکن ہے تو مسلمانوں کے مذہبی شعار کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ انہوں نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے واضح پالیسی اور باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاکہ صوبے بھر میں یکساں عملدرآمد ممکن ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مذہبی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔