Al Qamar Online:
2026-07-24@03:04:32 GMT

کراچی کی عدالت میں رجب بٹ پر تشدد: ’یہ صرف ٹریلر تھا‘

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

کراچی کی عدالت میں رجب بٹ پر تشدد: ’یہ صرف ٹریلر تھا‘

سٹی کورٹ میں پیشی کے موقع پر یوٹیوبر ملزم رجب بٹ اور وکلا کے کے جھگڑے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

اس حوالے سے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ریاض علی سولنگی ایڈووکیٹ نے کہا کہ کہ ہم نے یوٹیوبر ملزم رجب بٹ کیخلاف مقدمہ درج کرایا تھا، اس نے نماز کی بے حرمتی کی تھی۔

معزز عدالت سے حکم نامہ لیکر حیدری تھانے میں مقدمہ درج کرایا۔ یہ ملزم ایک سال سے غائب تھا، پی سی ایل میں نام آنے کے بعد اس نے حفاظتی ضمانت کرائی اور یہ یہاں پیش ہوا۔ جب یہ اپنے وکیل کے ساتھ داخل ہوا تو اس کے ساتھ تقریبا 15 یا اس سے زیادہ نامعلوم افراد تھے یا اس کے گارڈ تھے، وہ وی لاگ بناتے ہوئے آرہے تھے۔

ریاض سولنگی نے کہا کہ اس دوران انہوں نے ایک وکیل صاحب کو دھکا دیا، دھمکیاں دیں، سیلف ڈیفنس میں پھر اس کے ساتھ جو ہوا وہ سوشل میڈیا پر ہے۔ پہلی پیشی کے بعد اس نے وی لاگ بھی بنایا تھا جس میں اس نے کہا تھا کراچی کے وکیل ڈڈو، کچرا اور پان گٹکا کھانے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وکلا کے لیے وی لاگ میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے تھے اور آج بھی وہی عمل دہرایا گیا، اگر ہم نے اس کے ساتھ کچھ کرنا ہوتا تو پہلے کرتے جب 19 دسمبر کو یہ پہلی آیا تھا تو وکلا نے اسے عزت دی، اجرک پہنائی تھی۔

’اس کے بعد اس نے وی لاگ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ 19 تاریخ سے آج تک مجھے دھکی آمیز کالز آرہی ہیں۔ جس کی اطلاع کراچی بار ایسوسی ایشن کو کردی گئی ہے۔ جھگڑے کے دوران موبائل فون گرا یا ملزم کے گارڈز لے گئے اس کی بھی درخواست سٹی کورٹ تھانے میں دیدی ہے۔ ‘



کراچی: یوٹیوبر رجب بٹ پر وکلا کا حملہ، ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل



رجب بٹ کے خلاف توہینِ مذہب کیس میں اہم پیشرفت



رجب بٹ کا شیر افضل مروت سے محبت کا اظہار، تحفے میں کیا دیں گے؟

کراچی بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار مزمل ایڈووکیٹ نے ایکپریس سے گفتگو میں کہا کہ بار نے نصیر احمد کلہوڑو کیخلاف مقدمہ درج کرنے پر آج ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ ملزم رجب بٹ کے وکیل نے بار کو اعتماد میں لیے بغیر عدالت سے رجوع کیا جو کہ غلط اقدام تھا۔

انہوں نے کہا کہ رجب بٹ کے وکیل کو چاہیے تھا کہ وہ کراچی بار ایسوسی ایشن کا آگاہ کرتے۔ ملزم کے ساتھ گارڈز تھے، عدالت میں اس طرح آنے کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی، ملزم کے گارڈز نے وکلا کو دھکا دیا گالم گلوچ کی سوشل میڈیا پر سب نے دیکھا اور اس عمل کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔

مزمل ایڈوکیٹ نے کہا کہ اتنے لوگوں کو کس طرح اندر آنے دیا گیا اس کی بھی تحقیقات کررہے ہیں اور پھر جو بھی ملوث ہوگا اسکے کیخلاف کارروائی کریں گے۔ دوسری طرف یہ بھی لگ رہا ہے کہ ہماری ہڑتال کو ناکام بنانے کی یہ سازش کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ریاض سولنگی ایڈووکیٹ نے بار کو درخواست دے دی ہے اس پر مکمل تحقیق کرنے کے بعد مقدمہ درج کرایا جائیگا، بار ان کے ساتھ ہے۔ سٹی کورٹ میں موجود وکلا نے بات چیت کے دوران کہا کہ کراچی بار اور سندھ کے وکیلوں کا یہ ٹریلر تھا۔ ملزم کو سمجھنا چاہیے کہ اس طرح وکیل کو گالی دینا تمام وکلا کو گالی دینے کے مترادف ہے۔ ہم وکیل پڑھے لکھے لوگ ہیں، کریم آف سوسائٹی ہیں آپ ان کی تذلیل کروگے تو ہم اس سے زیادہ آپ کی تذلیل کرینگے۔ ہم یہ کہں گے کہ ابھی تو یہ چھوٹا سا ٹریلر تھا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تو صرف شرٹ پھٹی تھی، جو تم میڈیا کے سامنے ڈرامہ کررہے ہو،  ہر جگہ پر یہ تمھاری کہانی نہیں چلے گی اور نہ تمھارا پیسہ چلے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ  ایسا نہیں چلے گا کہ تم پندرہ بیس لوگوں کو لیکر آجاؤ اور کسی کو اغوا کرلو، یہ آپ کے لیے وارننگ ہے ملزم ہو ملزم بن کر رہو، آپ سنبھل جاؤ اور سدھر جاؤ۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سوشل میڈیا پر کراچی بار نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ کے وکیل کے بعد

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا