کراچی کی عدالت میں رجب بٹ پر تشدد: ’یہ صرف ٹریلر تھا‘
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
سٹی کورٹ میں پیشی کے موقع پر یوٹیوبر ملزم رجب بٹ اور وکلا کے کے جھگڑے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
اس حوالے سے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ریاض علی سولنگی ایڈووکیٹ نے کہا کہ کہ ہم نے یوٹیوبر ملزم رجب بٹ کیخلاف مقدمہ درج کرایا تھا، اس نے نماز کی بے حرمتی کی تھی۔
معزز عدالت سے حکم نامہ لیکر حیدری تھانے میں مقدمہ درج کرایا۔ یہ ملزم ایک سال سے غائب تھا، پی سی ایل میں نام آنے کے بعد اس نے حفاظتی ضمانت کرائی اور یہ یہاں پیش ہوا۔ جب یہ اپنے وکیل کے ساتھ داخل ہوا تو اس کے ساتھ تقریبا 15 یا اس سے زیادہ نامعلوم افراد تھے یا اس کے گارڈ تھے، وہ وی لاگ بناتے ہوئے آرہے تھے۔
ریاض سولنگی نے کہا کہ اس دوران انہوں نے ایک وکیل صاحب کو دھکا دیا، دھمکیاں دیں، سیلف ڈیفنس میں پھر اس کے ساتھ جو ہوا وہ سوشل میڈیا پر ہے۔ پہلی پیشی کے بعد اس نے وی لاگ بھی بنایا تھا جس میں اس نے کہا تھا کراچی کے وکیل ڈڈو، کچرا اور پان گٹکا کھانے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وکلا کے لیے وی لاگ میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے تھے اور آج بھی وہی عمل دہرایا گیا، اگر ہم نے اس کے ساتھ کچھ کرنا ہوتا تو پہلے کرتے جب 19 دسمبر کو یہ پہلی آیا تھا تو وکلا نے اسے عزت دی، اجرک پہنائی تھی۔
’اس کے بعد اس نے وی لاگ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ 19 تاریخ سے آج تک مجھے دھکی آمیز کالز آرہی ہیں۔ جس کی اطلاع کراچی بار ایسوسی ایشن کو کردی گئی ہے۔ جھگڑے کے دوران موبائل فون گرا یا ملزم کے گارڈز لے گئے اس کی بھی درخواست سٹی کورٹ تھانے میں دیدی ہے۔ ‘
کراچی: یوٹیوبر رجب بٹ پر وکلا کا حملہ، ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل
رجب بٹ کے خلاف توہینِ مذہب کیس میں اہم پیشرفت
رجب بٹ کا شیر افضل مروت سے محبت کا اظہار، تحفے میں کیا دیں گے؟
کراچی بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار مزمل ایڈووکیٹ نے ایکپریس سے گفتگو میں کہا کہ بار نے نصیر احمد کلہوڑو کیخلاف مقدمہ درج کرنے پر آج ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ ملزم رجب بٹ کے وکیل نے بار کو اعتماد میں لیے بغیر عدالت سے رجوع کیا جو کہ غلط اقدام تھا۔
انہوں نے کہا کہ رجب بٹ کے وکیل کو چاہیے تھا کہ وہ کراچی بار ایسوسی ایشن کا آگاہ کرتے۔ ملزم کے ساتھ گارڈز تھے، عدالت میں اس طرح آنے کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی، ملزم کے گارڈز نے وکلا کو دھکا دیا گالم گلوچ کی سوشل میڈیا پر سب نے دیکھا اور اس عمل کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔
مزمل ایڈوکیٹ نے کہا کہ اتنے لوگوں کو کس طرح اندر آنے دیا گیا اس کی بھی تحقیقات کررہے ہیں اور پھر جو بھی ملوث ہوگا اسکے کیخلاف کارروائی کریں گے۔ دوسری طرف یہ بھی لگ رہا ہے کہ ہماری ہڑتال کو ناکام بنانے کی یہ سازش کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ریاض سولنگی ایڈووکیٹ نے بار کو درخواست دے دی ہے اس پر مکمل تحقیق کرنے کے بعد مقدمہ درج کرایا جائیگا، بار ان کے ساتھ ہے۔ سٹی کورٹ میں موجود وکلا نے بات چیت کے دوران کہا کہ کراچی بار اور سندھ کے وکیلوں کا یہ ٹریلر تھا۔ ملزم کو سمجھنا چاہیے کہ اس طرح وکیل کو گالی دینا تمام وکلا کو گالی دینے کے مترادف ہے۔ ہم وکیل پڑھے لکھے لوگ ہیں، کریم آف سوسائٹی ہیں آپ ان کی تذلیل کروگے تو ہم اس سے زیادہ آپ کی تذلیل کرینگے۔ ہم یہ کہں گے کہ ابھی تو یہ چھوٹا سا ٹریلر تھا۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تو صرف شرٹ پھٹی تھی، جو تم میڈیا کے سامنے ڈرامہ کررہے ہو، ہر جگہ پر یہ تمھاری کہانی نہیں چلے گی اور نہ تمھارا پیسہ چلے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا نہیں چلے گا کہ تم پندرہ بیس لوگوں کو لیکر آجاؤ اور کسی کو اغوا کرلو، یہ آپ کے لیے وارننگ ہے ملزم ہو ملزم بن کر رہو، آپ سنبھل جاؤ اور سدھر جاؤ۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سوشل میڈیا پر کراچی بار نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ کے وکیل کے بعد
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔