بنگلادیشی کھلاڑی آئی پی ایل میچ نہیں کھیلیں گے،شیوسینا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
دہلی:انتہا پسند ہندوتوا جماعت شیوسینا نے بنگلا دیشی کرکٹرز کی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میچوں میں شرکت کی مخالفت کر دی۔
کھیل کے میدان میں بھی مودی کی جارحیت اور نفرت انگیز رویہ برقرار ہے، سیاسی، دفاعی اور عالمی سفارت کاری کے محاذ پر پسپائی کے شکار بھارت نے ایک مرتبہ پھر کھیل کو سیاست کی نذر کر دیا۔
پاکستان کرکٹ کے بعد اب بنگلا دیش کرکٹ بھی بھارتی انتہا پسند ہندوئوں کے تعصب کی بھینٹ چڑھ گئی۔
ہریانہ میں شیوسینا کے سربراہ نیرج سیٹھی نے بنگلا دیشی کھلاڑیوں کو بھارت میں میچز کھیلنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان کر دیا۔
نیرج سیٹھی کے مطابق شیوسینا نے فیصلہ کیا ہے کہ بنگلا دیشی کھلاڑی بھارت میں آئی پی ایل میچ نہیں کھیلیں گے۔
بھارت کی مخالفت جاری رکھنے پر نیرج سیٹھی نے بنگلا دیش کو مزید میچز کی پابندی کی دھمکی بھی دے دی، شیوسینا کی مخالفت نے عالمی سطح پر بھارت کی کھیل میں سیاست کے گھناو ¿نے امتزاج کی تصویر واضح کر دی۔
تیزی سے پستی کا شکار ہوتی آئی پی ایل کو ہندوتوا کی نظر کر کے مودی نے جینٹل مین گیم کی ساکھ مزید برباد کر دی۔ کھیل کے میدان میں نفرت انگیز سیاست کی تشہیر نے بھارت کا انتہا پسند مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آشکار کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل آئی پی ایل
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔