Express News:
2026-07-24@04:16:17 GMT

انتظامیہ حاوی رہی، 2025 عدلیہ کی آزادی کیلیے بدتر سال

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

اسلام آباد:

26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد سال 2025 عدلیہ کی آزادی کے لیے بدتر سال کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔

پورے سال کے دوران انتظامیہ اعلیٰ عدلیہ پر حاوی رہی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم نے پارلیمانی کمیٹی کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ تین سینئر ترین ججوں میں سے کسی ایک کو چیف جسٹس آف پاکستان منتخب کر سکے۔ 

تاہم حکومت تین سینئر ججوں کو نظر انداز کرنے میں کامیاب رہی اور جسٹس امین الدین خان کو آئینی بنچوں کے سربراہ کے طور پر نامزد کر دیا۔  آئینی بنچوں کیلئے حکومت کے ہم خیال  ججوں کی اکثریت کو نامزد کیا گیا۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی ججوں کی کمیٹی نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کو ترجیح ہی نہیں دی۔ 

آئینی بنچ نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی توثیق کردی۔  بنچ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بھی الٹ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی 8 فروری کے انتخابات کے بعد مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی حقدار ہے۔

اس سے موجودہ حکومت قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت مل گئی۔  حکومت نے مختلف ہائی کورٹس سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے تبادلے کا عمل شروع کیا۔

ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی تین ججوں کے اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلے پر اپنی رضامندی ظاہر کردی۔

مزید پڑھیں

سپریم کورٹ: مقدمات ٹرانسفر کرنے کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل

سپریم کورٹ، پیر سے شروع ہونے والے آئندہ عدالتی ہفتے میں مقدمات کی سماعت کے لیے 3 بینچز تشکیل

وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کے اعداد وشمار جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں ، جنہوں نے عدالتی امور میں ایجنسیوں کی مداخلت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا، نے ان تین ججوں کے تبادلے پر شدید اعتراض کیا۔

انہوں نے ان تبادلوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ تاہم جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں آئینی بنچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے تبادلے کی توثیق کر دی۔ 

کئی ماہ گزرنے کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی القادر کیس میں سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ نہ کر سکی۔ 

ادھر اڈیالہ جیل حکام نے عمران خان کی پارٹی رہنماؤں اور دیگر سے ملاقاتوں کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔

حکومت نے نومبر میں 27 ویں آئینی ترمیم منظور کر لی۔  قانون اور آئین کی تشریح اور مفاد عامہ کے معاملات کی سماعت کا سپریم کورٹ کا اختیار ختم کر کے اس نو قائم شدہ فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ (FCC) کو منتقل کر دیا گیا جس کے ججوں کا تقرر انتظامیہ کر رہی ہے۔ 

اب ایف سی سی ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے۔  27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے دو ججوں، سید منصور شاہ اور اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔ 

لاہور ہائی کورٹ کے جج شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ پیش کر دیا۔ تاہم  27 ویں ترمیم کو روکنے کے لیے اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے کوئی مزاحمت سامنے نہیں آئی جس نے عدلیہ کی آزادی کو بری طرح متاثر کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائی کورٹ ویں ا ئینی ترمیم ہائی کورٹ کے سپریم کورٹ عدلیہ کی ججوں کے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں  کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے  مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی