انتظامیہ حاوی رہی، 2025 عدلیہ کی آزادی کیلیے بدتر سال
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد:
26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد سال 2025 عدلیہ کی آزادی کے لیے بدتر سال کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔
پورے سال کے دوران انتظامیہ اعلیٰ عدلیہ پر حاوی رہی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم نے پارلیمانی کمیٹی کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ تین سینئر ترین ججوں میں سے کسی ایک کو چیف جسٹس آف پاکستان منتخب کر سکے۔
تاہم حکومت تین سینئر ججوں کو نظر انداز کرنے میں کامیاب رہی اور جسٹس امین الدین خان کو آئینی بنچوں کے سربراہ کے طور پر نامزد کر دیا۔ آئینی بنچوں کیلئے حکومت کے ہم خیال ججوں کی اکثریت کو نامزد کیا گیا۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی ججوں کی کمیٹی نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کو ترجیح ہی نہیں دی۔
آئینی بنچ نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی توثیق کردی۔ بنچ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بھی الٹ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی 8 فروری کے انتخابات کے بعد مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی حقدار ہے۔
اس سے موجودہ حکومت قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت مل گئی۔ حکومت نے مختلف ہائی کورٹس سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے تبادلے کا عمل شروع کیا۔
ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی تین ججوں کے اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلے پر اپنی رضامندی ظاہر کردی۔
مزید پڑھیںسپریم کورٹ: مقدمات ٹرانسفر کرنے کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل
سپریم کورٹ، پیر سے شروع ہونے والے آئندہ عدالتی ہفتے میں مقدمات کی سماعت کے لیے 3 بینچز تشکیل
وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کے اعداد وشمار جاری
اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں ، جنہوں نے عدالتی امور میں ایجنسیوں کی مداخلت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا، نے ان تین ججوں کے تبادلے پر شدید اعتراض کیا۔
انہوں نے ان تبادلوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ تاہم جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں آئینی بنچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے تبادلے کی توثیق کر دی۔
کئی ماہ گزرنے کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی القادر کیس میں سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ نہ کر سکی۔
ادھر اڈیالہ جیل حکام نے عمران خان کی پارٹی رہنماؤں اور دیگر سے ملاقاتوں کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔
حکومت نے نومبر میں 27 ویں آئینی ترمیم منظور کر لی۔ قانون اور آئین کی تشریح اور مفاد عامہ کے معاملات کی سماعت کا سپریم کورٹ کا اختیار ختم کر کے اس نو قائم شدہ فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ (FCC) کو منتقل کر دیا گیا جس کے ججوں کا تقرر انتظامیہ کر رہی ہے۔
اب ایف سی سی ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے۔ 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے دو ججوں، سید منصور شاہ اور اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جج شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ پیش کر دیا۔ تاہم 27 ویں ترمیم کو روکنے کے لیے اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے کوئی مزاحمت سامنے نہیں آئی جس نے عدلیہ کی آزادی کو بری طرح متاثر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائی کورٹ ویں ا ئینی ترمیم ہائی کورٹ کے سپریم کورٹ عدلیہ کی ججوں کے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔