Express News:
2026-06-02@22:29:26 GMT

انتظامیہ حاوی رہی، 2025 عدلیہ کی آزادی کیلیے بدتر سال

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

اسلام آباد:

26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد سال 2025 عدلیہ کی آزادی کے لیے بدتر سال کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔

پورے سال کے دوران انتظامیہ اعلیٰ عدلیہ پر حاوی رہی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم نے پارلیمانی کمیٹی کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ تین سینئر ترین ججوں میں سے کسی ایک کو چیف جسٹس آف پاکستان منتخب کر سکے۔ 

تاہم حکومت تین سینئر ججوں کو نظر انداز کرنے میں کامیاب رہی اور جسٹس امین الدین خان کو آئینی بنچوں کے سربراہ کے طور پر نامزد کر دیا۔  آئینی بنچوں کیلئے حکومت کے ہم خیال  ججوں کی اکثریت کو نامزد کیا گیا۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی ججوں کی کمیٹی نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کو ترجیح ہی نہیں دی۔ 

آئینی بنچ نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی توثیق کردی۔  بنچ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بھی الٹ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی 8 فروری کے انتخابات کے بعد مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی حقدار ہے۔

اس سے موجودہ حکومت قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت مل گئی۔  حکومت نے مختلف ہائی کورٹس سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے تبادلے کا عمل شروع کیا۔

ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی تین ججوں کے اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلے پر اپنی رضامندی ظاہر کردی۔

مزید پڑھیں

سپریم کورٹ: مقدمات ٹرانسفر کرنے کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل

سپریم کورٹ، پیر سے شروع ہونے والے آئندہ عدالتی ہفتے میں مقدمات کی سماعت کے لیے 3 بینچز تشکیل

وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کے اعداد وشمار جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں ، جنہوں نے عدالتی امور میں ایجنسیوں کی مداخلت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا، نے ان تین ججوں کے تبادلے پر شدید اعتراض کیا۔

انہوں نے ان تبادلوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ تاہم جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں آئینی بنچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے تبادلے کی توثیق کر دی۔ 

کئی ماہ گزرنے کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی القادر کیس میں سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ نہ کر سکی۔ 

ادھر اڈیالہ جیل حکام نے عمران خان کی پارٹی رہنماؤں اور دیگر سے ملاقاتوں کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔

حکومت نے نومبر میں 27 ویں آئینی ترمیم منظور کر لی۔  قانون اور آئین کی تشریح اور مفاد عامہ کے معاملات کی سماعت کا سپریم کورٹ کا اختیار ختم کر کے اس نو قائم شدہ فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ (FCC) کو منتقل کر دیا گیا جس کے ججوں کا تقرر انتظامیہ کر رہی ہے۔ 

اب ایف سی سی ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے۔  27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے دو ججوں، سید منصور شاہ اور اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔ 

لاہور ہائی کورٹ کے جج شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ پیش کر دیا۔ تاہم  27 ویں ترمیم کو روکنے کے لیے اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے کوئی مزاحمت سامنے نہیں آئی جس نے عدلیہ کی آزادی کو بری طرح متاثر کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائی کورٹ ویں ا ئینی ترمیم ہائی کورٹ کے سپریم کورٹ عدلیہ کی ججوں کے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر

اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔

اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔

اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔

مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔

نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔

اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔

ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ