شدید دھند، سینٹرل ریجن میں موٹر وے کے مختلف سیکشنز ٹریفک کیلیے بند
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
لاہور:
شدید دھند کے باعث سینٹرل ریجن کی متعدد موٹرویز کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ترجمان موٹروے پولیس سنٹرل ریجن سید عمران احمد کے مطابق موٹروے ایم ٹو لاہور سے کوٹ مومن تک دھند کے باعث بند ہے، جبکہ لاہور سیالکوٹ موٹروے ایم الیون بھی دھند کی وجہ سے ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ موٹروے ایم تھری فیض پور سے جڑانوالہ تک دھند کے باعث بند ہے، جبکہ بڑی گاڑیوں کے لیے ایم تھری فیض پور سے درخانہ تک ٹریفک معطل ہے۔
اسی طرح موٹروے ایم فور پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد تک بند ہے، جبکہ بڑی گاڑیوں کے لیے ایم فور پنڈی بھٹیاں سے عبدالحکیم تک آمدورفت معطل کر دی گئی ہے۔
موٹروے پولیس کے مطابق موٹرویز کی بندش کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے، کیونکہ دھند میں لین کی خلاف ورزی خطرناک حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیںشدید دھند کے باعث موٹر وے کے مختلف سیکشنز ٹریفک کے لیے بند
ترجمان نے بتایا کہ قومی شاہرات پر لاہور، مانگا منڈی، پھول نگر اور پتوکی سمیت رینالہ خورد، اوکاڑہ، ساہیوال، اقبال نگر، کسوال اور میاں چنوں میں شدید دھند چھائی ہوئی ہے، جہاں حد نگاہ 0 سے 100 میٹر تک ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
موٹروے پولیس نے روڈ یوزرز کو ہدایت کی ہے کہ لین ڈسپلن پر سختی سے عمل کریں، غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور دن کے اوقات میں سفر کو ترجیح دیں۔
ترجمان کے مطابق دھند میں صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک سفر نسبتاً محفوظ ہوتا ہے۔ ڈرائیور حضرات فوگ لائٹس کا لازمی استعمال کریں، تیز رفتاری سے گریز کریں اور آگے چلنے والی گاڑی سے محفوظ فاصلہ رکھیں۔
موٹروے پولیس نے مزید کہا کہ رہنمائی اور کسی بھی مدد کے لیے ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موٹروے پولیس دھند کے باعث موٹروے ایم لیے بند کے لیے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔