اسلام آباد‘ رحیم یار خان (خبر نگار خصوصی + نامہ نگار) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو ٹیلیفون کیا۔ گزشتہ روز دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم نے نئے سال کی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا جس کا شہزادہ فیصل بن فرحان نے گرمجوشی سے جواب دیا۔ نائب وزیراعظم نے دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سعودی وزیر خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی قیادت نے آئی ٹی، توانائی، کان کنی و معدنیات اور دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین دیرینہ، برادرانہ تعلقات کو سٹریٹجک اور باہمی طور پر مفید اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ روز شیخ زاید پیلس رحیم یار خان میں متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ بیان کے مطابق ملاقات نہایت گرمجوش اور خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں دونوں رہنمائوں نے 26 دسمبر 2025ء کو اسلام آباد میں ہونے والی اپنی حالیہ ملاقات میں ہونے والے تبادلہ خیال کو آگے بڑھایا۔ شیخ محمد بن زاید النہیان نے بطور صدر یو اے ای پاکستان کا اپنا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین دیرینہ، برادرانہ تعلقات کو ایک سٹریٹجک اور باہمی طور پر مفید اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اسے مطلوبہ سطح تک پہنچایا جا سکے۔ دونوں رہنمائوں نے آئی ٹی، توانائی، کان کنی و معدنیات اور دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔ وزیراعظم نے شیخ محمد بن زید النہیان کی متحرک اور دوراندیش قیادت میں متحدہ عرب امارات کی شاندار ترقی پر گہرے اطمینان اور تحسین کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کے فروغ کے لیے یو اے ای کے صدر کے عزم پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے 21 لاکھ پاکستانیوں کی میزبانی کو بھی سراہا جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ بیان کے مطابق یہ ملاقات پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک سال کے دوران قیادت کی سطح پر ہونے والے بھرپور روابط کا تسلسل ہے۔ قبل ازیں سہ پہر سوا چار بجے وزیر اعظم شہباز شریف جب ایک خصوصی طیارے کے ذریعے شیخ زید ایئر پورٹ رحیم یارخان پہنچے تو آر پی او بہاولپور رائے بابر سعید ڈی سی ظہیر انور جپہ اور ڈی پی او عرفان علی سموں نے ان کا استقبال کیا۔ اپنی آمد کے فوراً بعد وزیر اعظم شہباز شریف اور انکے رفقاء ایک خصوصی ہیلی کاپٹر میں ہز ہائی نس شیخ محمد بن زید سے ملاقات کے لئے چولستان میں واقع انکے محل کے لئے روانہ ہو گئے۔ شیخ محمد بن زید سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف شام پانچ بجے چالیس منٹ پر اپنے خصوصی جہاز سے اسلام آباد چلے گئے۔ یاد رہے کہ ہز ہائی نس شیخ محمد بن زید 26 دسمبر کو اپنے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے اور پھر اسی شام اسلام آباد سے اپنے نجی دورے پر رحیم یارخان آ گئے تھے اور چولستان میں واقع اپنے شاہی محل میں قیام پذیر تھے۔ ذرائع کے مطابق یہاں قیام کے دوران انہوں نے چولستان میں تلور کا شکار بھی کھیلا۔ اطلاعات کے مطابق اس موقع پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے اور اس موقع پر پولیس اور فوج کے خصوصی دستوں اور رینجرز کی کئی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ یو اے ای کی سکیورٹی فورسز نے بھی چولستان کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا، بعض ذرائع کے مطابق اماراتی صدر اپنا نجی دورہ چولستان مکمل کر کے آج واپس اپنے وطن روانہ ہو جائیں گے اور متوقع طور پر صدر آصف علی زرداری انہیں خدا حافظ کہنے کے لئے آج رحیم یار خان آئیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان اور متحدہ عرب امارات متحدہ عرب امارات کے کے مطابق تبادلہ خیال اسلام ا باد شہباز شریف سے ملاقات تعلقات کو نے دوطرفہ

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ