بلوچستان، آرمی اسکول کی بلٹ پروف گاڑیوں کیلیے 2.1 ارب منظور
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے بلوچستان میں آرمی پبلک اسکول کے بچوں کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کے لیے فوج کو اضافی دو اشاریہ، ایک ارب روپے فراہم کرنے کی منظوری دیدی۔
اس کا فیصلہ وزیر خزانہ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی( ای سی سی )کے اجلاس میں کیا گیا،اس فنڈ سے 38 بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جائیں گی۔
وزارت خزانہ کے مطابق ای سی سی نے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹ کے حصول کے لیے دفاعی ڈویژن کی سمری کا جائزہ لیا اور اس کی منظوری دی، آپریشنل ضروریات اور سکیورٹی سے متعلق ضروریات کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا۔
واضح رہے بلوچستان میں آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کی طرف سے حملہ ہوچکا ہے،اسی تناظر میں یہ اضافی فنڈ مہیا کئے گئے ہیں۔
پاکستان انڈر19مین کرکٹ ٹیم کو انعامی رقم دینے کے لیے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دیدی گئی۔ای سی سی کا اجلاس وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب کی زیرصدارت ہوا،وزیرتوانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک،وزیرسرمایہ کاری قیصرشیخ،معاونِ خصوصی ہارون اختر اور دیگر نے شرکت کی۔
ڈاکٹر شمشاد اختر کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔علاوہ ازیں وزیرِ خزا نہ نے چائنا ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو انٹرویو میں کہا پاکستان آئندہ چند ہفتوں میں پانڈا بانڈ جاری کررہا ہے جو پاک چین مالی تعلقات میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا ،پانڈا بانڈ کے اجرا سے پاکستان کا ڈالر پر انحصار کم ہوگا۔
دوسری جانب فنانسنگ دستاویز کی تقریب میں وزیر خزانہ نے کہا پاکستان کا آبادیاتی فائدہ اسی صورت میں حقیقی طاقت بن سکتا ہے جب نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جائے۔
پاکستان نے سکولز ڈویلپمنٹ کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ملک کے پہلے نجی سرمائے سے چلنے والے پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ(پی ایس آئی بی)کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
ایک دوسری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان فری لانسنگ کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن گیا،نوجوان ملک کی سب سے بڑی معاشی قوت بن سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔