غیرملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ 6 ارب ڈالر ادائیگی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-08-20
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک )حکومت نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن(پی این ایس سی) کی بحالی اور بہتری کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ غیرملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ کرایے کی مد میں 6 ارب ڈالر کی ادائیگی کی جاتی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق اس وقت پی این ایس سی کے پاس صرف 10 بحری جہاز ہیں جو ملکی تجارتی سامان کا محض 11 فیصد حصہ منتقل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کو غیرملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ تقریباً 6 ارب امریکی ڈالر کا زرمبادلہ بطور کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے اور اس وقت ملک کی تقریباً 90 فیصد درآمدات و برآمدات غیر ملکی بحری جہازوں کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ پی این ایس سی کا ایک سنگین چیلنج پرانی ساخت کے جہاز ہیں، بہت سے جہاز اپنی آپریشنل مدت کے اختتام کے قریب ہیں، جس کی وجہ سے 2030ء کے بعد انہیں منافع بخش طریقے سے چلانا مشکل ہو جائے گا اور دوسری طرف بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کی جانب سے کاربن کے اخراج میں کمی کے نئے ریگولیٹری نظام نے اس صورت حال کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ان تمام کوششوں کا اصل مقصد پی این ایس سی کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ غیر ملکی کمپنیوں کو ڈالر کی صورت میں ادا کیے جانے والے قومی مال برداری کے اخراجات کو کم سے کم کیا جا سکے۔مزید بتایا گیا کہ شپنگ کی صنعت میں ترقی کی وسیع گنجائش کے باوجود نجی آپریٹرز کی عدم موجودگی مارکیٹ کی فعالیت اور تیزی میں رکاوٹ کا باعث ہے تاہم این ایل سی کے کاروبار میں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ 2030ء تک قومی کارگو اٹھانے کی صلاحیت بڑھائی جا سکے اور غیر ملکی جہازوں پر انحصار ختم کیا جا سکے۔حکومت کے کاروباری منصوبہ 2026ء-2030 ء کے مطابق اس اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت اگلے 5 سال میں پی این ایس سی کے فعال جہازوں کی تعداد 54 تک پہنچ جائے گی۔پی این ایس سی کے جہازوں کی تعداد میں اضافے سے ہونے والے متوقع فوائد کے بارے میں بتایا گیا کہ اس منصوبے سے حکومت اور پی این ایس سی کا سمندری مال برداری کا حصہ5 فیصد سے بڑھ کر 56 فیصد (162 ملین ڈالر سے 1785 ملین ڈالر) تک پہنچ جائے گا۔اسی طرح اس اقدام کے ذریعے پی این ایس سی کے تمام پرانے جہازوں کی 100 فیصد تبدیلی اور نئے جہازوں کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی اور اس منصوبے کے ذریعے پی این ایس سی کے پاس موجود سرمایے کا بہترین اور موزوں ترین استعمال ممکن ہو سکے گا۔حکومت کا کہنا ہے کہ ادارے کی ازسرنو تشکیل کے لیے عالمی معیار کے مالیاتی اور قانونی مشیر مقرر کیے جائیں گے تاکہ پی این ایس سی کو ایک جدید، چست اور پیشہ ورانہ نظم و نسق کا حامل ادارہ بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی این ایس سی کے کمپنیوں کو جہازوں کی گیا کہ جا سکے
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔