ٹرمپ کا وینزویلا میں مبینہ منشیات بندرگاہ پر امریکی حملے کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے وینزویلا میں ایک ایسے ڈاک ایریا کو نشانہ بنایا ہے جسے مبینہ طور پر بین الاقوامی سطح پر منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے امریکی انتظامیہ کی کوششوں کے تحت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وینزویلا میں چین اور روس کی دلچسپی کیا ہے، امریکا کیوں پریشان ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز بتایا کہ امریکا نے وینزویلا میں ایک ’ڈاک ایریا‘ پر حملہ کیا ہے جہاں منشیات کو کشتیوں کے ذریعے دیگر ممالک منتقل کیا جاتا تھا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا نے منشیات کے خلاف کارروائی کے دوران وینزویلا میں کسی زمینی ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا تھا کہ وینزویلا میں ایک بڑی سہولت کو تباہ کیا گیا ہے، تاہم اس کی تفصیلات اس وقت منظرِ عام پر نہیں آئیں۔ بعد ازاں مارالاگو میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے اس کارروائی کی تصدیق کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ڈاک مبینہ طور پر وینزویلا کے بدنام زمانہ گروہ ٹرین ڈی اراگوا کے زیر استعمال تھا، جو منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔ سی این این کے مطابق یہ کارروائی ڈرون حملے کے ذریعے کی گئی، جس کی بنیاد امریکی خفیہ معلومات پر تھی۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اس مقام پر کشتیوں کو منشیات سے بھرا جاتا تھا، اس لیے پہلے کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا اور اب اس مرکزی مقام کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس کا فوج کو وینزویلا کے تیل کی ترسیل روکنے پر توجہ مرکوز رکھنے کا حکم
واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ چند ماہ کے دوران وینزویلا کے قریب کیریبین سمندر میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ نومبر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی اس علاقے میں تعینات کیا گیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق اس فوجی آپریشن کو آپریشن سدرن اسپیئر کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت ہزاروں امریکی فوجی اور متعدد جنگی جہاز خطے میں موجود ہیں۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ روکنا اور وینزویلا پر دباؤ بڑھانا ہے۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ منشیات فروش گروہوں کی سرپرستی کر رہے ہیں اور امریکا میں منشیات کی ترسیل کے ذمہ دار ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا وائٹ ہاؤس وینزویلا وینزویلا میں کہ امریکا نے وینزویلا کے منشیات کی کے مطابق کیا ہے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔