امریکا کا اسرائیل کو جدید-15 Fطیاروں کا بڑا تحفہ‘ 8.6 ارب ڈالر کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-01-15
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو اسرائیل کے لیے جدید ایف-15 جنگی طیاروں کی فراہمی کا 8.6 ارب ڈالر کا بڑا معاہدہ دے دیا گیا ہے۔پینٹاگون کے مطابق یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیلی فضائیہ کے لیے 25 نئے ایف-15 آئی اے جنگی طیارے تیار کیے جائیں گے جبکہ مزید 25 طیاروں کا آپشن بھی شامل ہے۔پینٹاگون کے بیان کے مطابق اس منصوبے میں طیاروں کا ڈیزائن، جدید نظاموں کی تنصیب، آزمائش، تیاری اور اسرائیل کو ترسیل شامل ہے۔ یہ معاہدہ غیر ملکی فوجی فروخت (Foreign Military Sales) پروگرام کے تحت کیا گیا ہے۔امریکا طویل عرصے سے اسرائیل کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک رہا ہے، اور یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرتا ہے۔دوسری جانب امریکا میں فلسطین کے حامی اور جنگ مخالف مظاہرین مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے باعث اسرائیل کو فوجی امداد بند کی جائے تاہم ٹرمپ انتظامیہ اور سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ان مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا۔پینٹاگون کے مطابق معاہدے پر کام امریکی شہر سینٹ لوئس میں کیا جائے گا جب کہ اس منصوبے کی تکمیل 31 دسمبر 2035ء تک متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔