حماس کے پاس ہتھیار ڈالنے کیلیے بہت تھوڑا وقت بچا ہے؛ ٹرمپ کی نیتن یاہو کو تسلّی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران غزہ کی نئی انتظامی حکومت سمیت اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں ہونے والی اس ملاقات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو یقین دلایا کہ حماس خود کو غیر مسلح کرنے کے وعدے پر جلد عمل کرے گی۔
امریکی صدر نے متنبہ کیا کہ حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے بہت تھوڑا وقت دیا جائے گا اگر اس نے یہ نہیں کیا تو اس کی بھاری قیمت ادا کرنے اور جہنم جیسے انجام کے لیے تیار رہے۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ حماس نے ابتدائی مرحلے میں ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم حماس اس کی تردید کرتی آئی ہے۔
حماس کا مؤقف ہے کہ وہ صرف ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بعد ہی اس حوالے سے بات کرے گی اور اسی نکتے پر جنگ بندی کے اگلے مرحلے میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ غزہ کے لیے اپنے 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے پر جلد از جلد پیش رفت چاہتے ہیں تاہم انہوں نے کوئی واضح ٹائم لائن دینے سے گریز کیا۔
یاد رہے کہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ اکتوبر میں شروع ہوا تھا، مگر دوسرے مرحلے پر اسرائیل اور حماس کے درمیان شدید اختلافات کے باعث عملدرآمد تعطل کا شکار ہے۔
دوسرا مرحلہ غزہ میں طویل المدت حکمرانی اور سیکیورٹی انتظامات پر مشتمل ہے، جس میں فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل عبوری حکومت، ایک بین الاقوامی استحکامی فورس اور غزہ کی بتدریج غیر عسکری حیثیت شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔