غزہ (این این آئی + نوائے وقت رپورٹ) حماس نے اپنے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ اور متعدد دیگر رہنماو ں کی شہادت کی تصدیق کر دی۔ حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز نے تصدیق کی ہے کہ ان کے معروف ترجمان ابو عبیدہ، حماس کے سربراہ محمد سنوار، رفح بریگیڈ کے کمانڈر محمد شعبانہ سمیت اعلیٰ کمانڈرز حکم العیسیٰ اور رائد سعد بھی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ تمام افراد رواں برس مختلف مقامات پر اور مختلف اوقات میں اسرائیلی فوج کی بمباری یا چھاپہ مار کارروائیوں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران شہید ہوئے۔ یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے مئی 2025ءمیں محمد سنوار اور ستمبر 2025ءمیں ابو عبیدہ کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کی اب حماس نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ حماس نے تصدیق کی ہے کہ ابو عبیدہ کا اصل نام حذیفہ الکحلوت تھا۔ وہ کئی برسوں تک القسام بریگیڈز کے ترجمان کے طور پر سامنے آئے اور غزہ میں حماس کی جانب سے سب سے نمایاں اور بااثر آواز سمجھے جاتے تھے۔ وہ جنگی صورتحال‘ میدان جنگ کی پیشرفت‘ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اسرائیلی‘ فلسطینی قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بیانات جاری کرتے رہے۔ ادھر غزہ میں ایک بار پھر موسم سرما کی بارش اور یخ بستہ طوفانی ہوائیں چل پڑیں، امداد پر اسرائیلی پابندیوں کے باعث بے گھر فلسطینیوں کے مصائب بڑھ گئے۔ دوسری جانب سربراہ حزب اللہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اسرائیل خود جنگ بندی منصوبے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، امریکا اور اسرائیل حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کا منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پام ہیچ میں ملاقات کی۔ صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حماس کو ہر صورت غیر مسلح کیا جائے گا۔ غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ غزہ میں تعمیرنو جلد شروع ہو جائے گی۔ نیتن یاہو کے ساتھ غزہ سمیت دیگر امور پر بات ہو گی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری