پاکستان پانڈا بانڈ اجراء کیلئے تیار، اقتصادی راہداری نئے مرحلے میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)وفاقی وزیر برائے خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان آئندہ چند ہفتوں میں چینی کیپیٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈ جاری کرنے کے لیے تیار ہے، جو پاکستان اور چین کے درمیان مالی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ چائنا گلوبل ٹیلی وژن نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات مسلسل مضبوط، مستحکم اور متنوع ہو رہے ہیں اور اب یہ تعلقات صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک وسیع، مارکیٹ پر مبنی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے چین کو پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات دہائیوں سے مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں اور چین نے ہر بین الاقوامی فورم پر پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں چین کا کردار بالخصوص چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے نہایت اہم رہا ہے، جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا نمایاں منصوبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں سڑکوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور توانائی کے منصوبوں سمیت بنیادی انفراسٹرکچر پر توجہ دی گئی، جبکہ صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ سے رواں سال ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد سی پیک کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق سی پیک فیز ٹو میں موجودہ انفراسٹرکچر کو معاشی طور پر مؤثر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے اور یہ مرحلہ زیادہ تر بزنس ٹو بزنس تعاون پر مبنی ہے، جو نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار ترقی کی جانب واضح پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی ترجیحات میں زراعت، معدنیات و کان کنی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت شامل ہیں، جہاں چینی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور تعاون صرف سرمایہ کاری تک محدود نہیں بلکہ علم کی منتقلی اور تکنیکی معاونت کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ہزاروں پاکستانی زرعی گریجویٹس کو چینی جامعات میں داخلہ دیا جا چکا ہے تاکہ وہ جدید زرعی طریقے سیکھ کر وطن واپس آئیں، جس سے ملکی زرعی شعبے کو جدید بنانے اور پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ہواوے سمیت بڑی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کمپنیاں ہزاروں پاکستانی آئی ٹی گریجویٹس کو تربیت فراہم کر رہی ہیں، جو پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
عالمی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی چین کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر مرکوز ہے اور چین نے اہم اقتصادی ادوار میں، بشمول آئی ایم ایف پروگرام کے تناظر میں، پاکستان کی بھرپور معاونت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانڈا بانڈ کے اجرا ءسے پاکستان کو دنیا کی دوسری سب سے بڑی اور گہری کیپیٹل مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو گی، جس سے امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے اور فنانسنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے میں مدد ملے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حالیہ اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقاتوں، بشمول شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر تیانجن میں ہونے والی ملاقاتوں، کے بعد پاکستان اور چین کے درمیان ایک واضح اسٹریٹجک اور اقتصادی روڈ میپ طے پا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نہ صرف جغرافیائی و سیاسی ترجیحات پر ہم آہنگ ہیں بلکہ ایک طویل المدتی اقتصادی ایجنڈے پر بھی متفق ہیں، جو آئندہ برسوں میں پاک چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ پاکستان وفاقی وزیر خزانہ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پاکستان ا اور چین چین کے
پڑھیں:
ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیاازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔
مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔
ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔