سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ویب سائٹ کو فعال کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) معلومات تک رسائی اور شفافیت کے قانون 2016 کے تحت معلومات کی عدم فراہمی پر سندھ انفارمیشن کمیشن کے اراکین محمد سلیم خان اور نور محمد دایو نے سیکشن 13 کے سب سیکشن 4 کے تحت سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے صدر دفتر کا دورہ کیا،اراکین نے اتھارٹی کے بجٹ، استعمال،اسٹاف کی تفصیل،ترقیاتی منصوبوں کے اعداد و شمار،ریکارڈ روم اور دیگر امور کا معائنہ کیا، انفارمیشن کمیشن کے اراکین نے ادارہ کی ویب سائٹ کے فعال نہ ہونے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اسے فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایکٹ کے تحت درکار تمام معلومات کو اپ لوڈ کرنے کے بھی احکامات دئیے،اس موقع پرکمشنر انفارمیشن کمیشن محمد سلیم خان نے کہا کہ معلومات تک رسائی ہر پاکستان شہری کا بنیادی حق ہے جو کہ اسے آئین پاکستان کے سیکشن 19-اے کے تحت بھی دیا گیا ہے اس لئے تمام سرکاری ادارے شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے عوامی مفاد کی معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ اس ایکٹ کے تحت تمام سرکاری ادارے عوام کو معلومات کی فراہمی کے لئے 16گریڈ یا اس سے اوپر گریڈکا افسر مقرر کریں۔کمشنر انفارمیشن کمیشن نور محمد دایو نے کہا کہ معلومات کی عدم فراہمی،غلط بیانی اور اسے جان بوجھ کر چھپانا قابل تعزیر جرم ہے،انہوں نے سرکاری محکموں پر زور دیا کہ وہ مقرر کردہ افسر کی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر کمیشن کو مطلع کریں تاکہ اس ضمن میں ریکارڈ کو درست رکھا جاسکے، کمشنرز نے اتھارٹی کے افسران پر واضح کیا کہ مذکورہ بالا ایکٹ کی خلاف ورزی اور معلومات کی عدم فراہمی یا غلط استعمال پر کمیشن کو اس کے سیکشن 15 اور 16 کے تحت سزا دینے کا اختیار حاصل ہے۔سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے معلومات کی عدم فراہمی پر غیر مشروط معافی طلب کی اور کہا کہ کمیشن کے احکامات کی مکمل پابندی کی جائے گی،انہوں نے انفارمیشن کمیشن سے اظہار وجوہ کا نوٹس واپس لینے کی بھی درخواست کی جس پر کمیشن نے اس واپس لینے کے احکامات جاری کئے،بعد ازاں کمیشن کے اراکین نے سیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: معلومات کی عدم فراہمی انفارمیشن کمیشن اتھارٹی کے کمیشن کے کہا کہ کے تحت
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔