Jasarat News:
2026-06-02@23:41:47 GMT

انتظامیہ حاوی رہی، 2025 عدلیہ کی آزادی کیلیے بدتر سال

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد سال 2025 کو عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک انتہائی منفی سال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پورے سال کے دوران انتظامیہ کا اثر و رسوخ اعلیٰ عدلیہ پر نمایاں رہا۔ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت پارلیمانی کمیٹی کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ تین سینیئر ترین ججوں میں سے کسی ایک کو چیف جسٹس آف پاکستان مقرر کر سکے۔

تاہم حکومت نے تینوں سینیئر ججوں کو نظرانداز کرتے ہوئے جسٹس امین الدین خان کو آئینی بنچوں کا سربراہ نامزد کر دیا، جبکہ آئینی بنچوں کے لیے حکومت کے ہم خیال ججوں کی اکثریت مقرر کی گئی۔

جسٹس امین الدین خان کی قیادت میں قائم تین رکنی کمیٹی نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کو ترجیح نہیں دی۔

بعد ازاں آئینی بنچ نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی توثیق کر دی۔ اسی طرح بنچ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بھی مسترد کر دیا جس میں پی ٹی آئی کو 8 فروری کے انتخابات کے بعد مخصوص نشستوں کا حق دار قرار دیا گیا تھا۔

ان فیصلوں کے نتیجے میں موجودہ حکومت کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی۔ اس کے بعد حکومت نے مختلف ہائی کورٹس سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے تبادلوں کا عمل شروع کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سمیت متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے تین ججوں کے تبادلے پر بھی رضامندی ظاہر کر دی۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہائی کورٹ چیف جسٹس

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا