امریکا نے بھارتی شہریوں کو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے اور امریکی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت فوجداری سزاؤں سے خبردار کیا ہے۔

منگل کے روز بھارت میں امریکی سفارت خانے نے واضح کیا کہ غیر قانونی ہجرت کے خلاف کریک ڈاؤن ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔

امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا کہ اگر کوئی شخص امریکی قانون توڑتا ہے تو اسے سنگین فوجداری نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ امریکا اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور بھارت کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف اور مئی میں پاک بھارت کشیدگی کے بعد امریکا کا پاکستان سے رابطہ شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے دیگر ممالک جیسے پاکستان، افغانستان، شام، میانمار یا چین کے شہریوں کے لیے اس نوعیت کی کوئی عوامی وارننگ جاری نہیں کی۔

مزید پڑھیں

ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا فیصلہ: افغان اسپیشل امیگرنٹ ویزا بھی معطل کردیا

ٹرمپ انتظامیہ کی نئی سفری پابندیاں، مزید 20 ممالک کے شہری امریکا داخلے سے محروم

صدر ٹرمپ کے جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکا میں غیر قانونی ہجرت کے خلاف سخت پالیسیاں نافذ کی گئیں، جن کے تحت 2025 کے دوران بڑے پیمانے پر ڈی پورٹیشنز عمل میں لائی گئیں۔

فروری میں امریکی فوجی طیارے کے ذریعے 104 بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کر کے امرتسر منتقل کیا گیا، جو اس نوعیت کا پہلا واقعہ تھا کہ ڈی پورٹیشن کے لیے فوجی طیارہ استعمال کیا گیا۔

اس کے علاوہ امریکا نے ویزا پالیسی بھی سخت کر دی ہے۔ ستمبر میں صدر ٹرمپ نے H-1B ویزا فیس بڑھانے کا حکم دیا، جس پر بھارتی حکومت اور آئی ٹی انڈسٹری نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جنوری سے اب تک 80 ہزار سے زائد نان امیگرنٹ ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، جن میں شراب پی کر گاڑی چلانا، تشدد اور چوری جیسے جرائم شامل ہیں۔ اگست میں امریکا نے 6 ہزار سے زائد اسٹوڈنٹ ویزے بھی قانون شکنی اور قیام کی مدت ختم ہونے پر منسوخ کیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکا نے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل