امریکا: اسرائیل کو جدید ایف 15 طیاروں کا بڑا تحفہ، 8.6 ارب ڈالر کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو اسرائیل کے لیے جدید ایف-15 جنگی طیاروں کی فراہمی کا 8.6 ارب ڈالر کا بڑا معاہدہ دے دیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ میں پینٹاگون کے مطابق یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیلی فضائیہ کے لیے 25 نئے ایف-15 آئی اے جنگی طیارے تیار کیے جائیں گے، جبکہ مزید 25 طیاروں کا آپشن بھی شامل ہے۔
پینٹاگون کے بیان کے مطابق اس منصوبے میں طیاروں کا ڈیزائن، جدید نظاموں کی تنصیب، آزمائش، تیاری اور اسرائیل کو ترسیل شامل ہے۔ یہ معاہدہ غیر ملکی فوجی فروخت (Foreign Military Sales) پروگرام کے تحت کیا گیا ہے۔
امریکا طویل عرصے سے اسرائیل کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک رہا ہے، اور یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
دوسری جانب امریکا میں فلسطین کے حامی اور جنگ مخالف مظاہرین مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے باعث اسرائیل کو فوجی امداد بند کی جائے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اور سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ان مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا۔
پینٹاگون کے مطابق معاہدے پر کام امریکی شہر سینٹ لوئس میں کیا جائے گا، جبکہ اس منصوبے کی تکمیل 31 دسمبر 2035 تک متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔