data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو اسرائیل کے لیے جدید ایف-15 جنگی طیاروں کی فراہمی کا 8.6 ارب ڈالر کا بڑا معاہدہ دے دیا گیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹ میں پینٹاگون کے مطابق یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیلی فضائیہ کے لیے 25 نئے ایف-15 آئی اے جنگی طیارے تیار کیے جائیں گے، جبکہ مزید 25 طیاروں کا آپشن بھی شامل ہے۔

پینٹاگون کے بیان کے مطابق اس منصوبے میں طیاروں کا ڈیزائن، جدید نظاموں کی تنصیب، آزمائش، تیاری اور اسرائیل کو ترسیل شامل ہے۔ یہ معاہدہ غیر ملکی فوجی فروخت (Foreign Military Sales) پروگرام کے تحت کیا گیا ہے۔

امریکا طویل عرصے سے اسرائیل کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک رہا ہے، اور یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

دوسری جانب امریکا میں فلسطین کے حامی اور جنگ مخالف مظاہرین مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے باعث اسرائیل کو فوجی امداد بند کی جائے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اور سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ان مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا۔

پینٹاگون کے مطابق معاہدے پر کام امریکی شہر سینٹ لوئس میں کیا جائے گا، جبکہ اس منصوبے کی تکمیل 31 دسمبر 2035 تک متوقع ہے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری