WE News:
2026-07-24@04:28:43 GMT

اسرائیل کا اعلیٰ ترین اعزاز صدر ٹرمپ کو دینے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہونے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل پرائز دینے کا اعلان کیا ہے، جو ریاستِ اسرائیل کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات پیر کے روز فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ مار-اے-لاگو میں ہوئی، جہاں وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے متعدد روایات توڑیں، جس پر ابتدا میں لوگ حیران ہوئے، مگر بعد میں انہیں احساس ہوا کہ شاید وہ درست تھے۔

Prime Minister Benjamin Netanyahu has nominated US President Donald Trump for the Nobel Peace Prize.

Prime Minister Netanyahu gave @POTUS @realDonaldTrump the letter of nomination during their White House meeting. pic.twitter.com/ayGSHoEcmH

— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) July 8, 2025

’اسی لیے ہم نے بھی ایک روایت توڑنے یا نئی روایت قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور وہ یہ کہ اسرائیل پرائز دیا جائے، جو تقریباً 80 سالہ تاریخ میں کبھی کسی غیر اسرائیلی کو نہیں دیا گیا اور اس سال یہ اعزاز صدر ٹرمپ کو دیا جائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز صدر ٹرمپ کو اسرائیل اور یہودی عوام کے لیے ان کی ’غیر معمولی خدمات‘ کے اعتراف میں دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اپنی تعریف، اوباما اور بائیڈن پر تنقید، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نئی تختیاں لگوا دیں

’یہ فیصلہ اسرائیلی عوام کے تمام طبقات کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے، وہ اسرائیل کی مدد اور دہشت گردی کے خلاف ہماری مشترکہ جدوجہد میں آپ کے کردار کو سراہتے ہیں۔‘

اس انعام کے انتظامی امور پر مامور اسرائیل کے وزیرِ تعلیم یوآف کیش نے نیتن یاہو سے ملاقات کے آغاز میں فون کال کے ذریعے صدر ٹرمپ کو اس اعزاز کے بارے میں آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل، ’غزہ‘ امریکا کے حوالے کر دیگا، تعمیر نو کے لیے کسی فوجی کی ضرورت نہیں ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

یوآف کیش نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ریاستِ اسرائیل کی تاریخ میں پہلی بار: اسرائیل پرائز صدر ٹرمپ کو دیا جائے گا۔

انہوں نے اسے ’ریاستِ اسرائیل کا سب سے باوقار اعزاز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ 2026 کے لیے ’یہودی عوام کے لیے غیر معمولی خدمات‘ کے زمرے میں دیا جا رہا ہے۔

Prime Minister Benjamin Netanyahu and Education Minister Yoav Kisch informed US President @realDonaldTrump that they have decided to award him the Israel Prize for his unique contribution to the Jewish People pic.twitter.com/LyD8PKabVx

— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) December 29, 2025

ان کے مطابق، یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جو صدر ٹرمپ کی غیر معمولی خدمات اور اسرائیل سمیت دنیا بھر میں یہودی عوام پر ان کے دیرپا اثرات کا اعتراف ہے۔

صدر ٹرمپ کو یہ اعزاز اس کے فوراً بعد ملا ہے جب انہیں 2026 فٹبال ورلڈ کپ کی قرعہ اندازی کے دوران پہلی بار دیا جانے والا فیفا پیس پرائز بھی دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایران-اسرائیل جنگ سے ٹرمپ کو دور رہنا چاہیے، امریکا کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع

فیفا پیس پرائز کے قیام کا اعلان گزشتہ ماہ کیا گیا تھا، جو ناروے کی نوبل کمیٹی کی جانب سے نوبل امن انعام کے اعلان کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا تھا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ انعام انہیں ملنا چاہیے تھا، تاہم یہ وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کو دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل اسرائیل ایوارڈ اسرائیلی وزیر اعظم امریکا دہشت گردی ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو وزیر تعلیم

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیل ایوارڈ اسرائیلی وزیر اعظم امریکا ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو وزیر تعلیم صدر ٹرمپ کو کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم