ٹرمپ کے عالمی جنگ کے انتباہ کے بعد امریکی فوج کا خطرناک میزائل تجربہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
امریکی میرین کور نے اپنے حملہ آور ہیلی کاپٹروں کے لیے ایک جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ آزمائش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی جنگ کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔
امریکی بحری حدود میں واقع اٹلانٹک ٹیسٹ رینج پر میرینز نے AH-1Z وائپر ہیلی کاپٹر سے جدید ریڈ وولف (Red Wolf) میزائل فائر کیا، جس نے سمندر میں موجود ہدف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا۔
یہ جدید میزائل دفاعی کمپنی L3Harris نے تیار کیا ہے۔ ریڈ وولف ایک ماڈیولر، تیز رفتار اور کم بلندی پر پرواز کرنے والا میزائل ہے جو نہ صرف دور دراز اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے بلکہ ہدف سے متعلق معلومات بھی منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ ہیلی کاپٹر سے فائر کیے جانے والے ہتھیار، جیسے ہیل فائر میزائل، زیادہ سے زیادہ 10 سے 21 میل تک مار رکھتے ہیں، جبکہ ریڈ وولف کی رینج تقریباً 230 میل تک بتائی جا رہی ہے، جو ایک بڑی تکنیکی پیش رفت ہے۔
مزید پڑھیںاوباما نے ایران کو جوہری ہتھیار کیلیے اربوں ڈالرز دیئے؟ ٹرمپ کے بیان کی حقیقت کیا ہے؟
یہ تجربہ امریکی میرین کور کے لانگ رینج اٹیک میزائل (LRAM) پروگرام میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ممکنہ طور پر بحرالکاہل میں کسی تنازع کی صورت میں یہ نظام دشمن جنگی جہازوں کے سینسرز کو عارضی طور پر ناکارہ بنا کر بڑے حملوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق ریڈ وولف کا یہ تجربہ اس بیان کا براہِ راست ردعمل نہیں تھا بلکہ امریکی فوجی صلاحیتوں میں توسیع کا حصہ ہے۔
ایل تھری ہیرس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق اس تجربے نے ریڈ وولف کی جدید نشانہ بازی اور نگرانی کی صلاحیتوں کو ثابت کر دیا ہے، جو مستقبل کے پیچیدہ خطرات سے نمٹنے میں امریکی فوج کو برتری فراہم کریں گی۔
ریڈ وولف میزائل تقریباً چھ فٹ لمبا ہے، اس میں ٹربوجیٹ انجن نصب ہے اور یہ 25 پاؤنڈ تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس میزائل کی فی یونٹ قیمت تقریباً تین لاکھ ڈالر ہے اور 2026 تک اس کی عملی تعیناتی متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔