ٹرمپ کا اسرائیل پر دباؤ، ویسٹ بینک پالیسیوں پر شدید تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ حکام نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں اسرائیل کی بعض پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق یہ ملاقات امریکا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں ہوئی، جہاں ٹرمپ اور ان کے سینئر مشیروں نے خاص طور پر یہ مسئلہ اٹھایا کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے، جبکہ یہ تشدد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
امریکی حکام نے اسرائیلی بستیوں میں توسیع اور فلسطینی اتھارٹی کے اربوں ڈالر کے ٹیکس فنڈز روکنے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان فنڈز کی بندش کے باعث رام اللہ میں قائم فلسطینی حکومت کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور اس کے نظام کے مفلوج ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ان نکات پر گفتگو خوشگوار ماحول میں ہوئی، تاہم واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ مغربی کنارے میں عدم استحکام غزہ میں حالات کو سنبھالنے اور ابراہیم معاہدوں کو آگے بڑھانے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںنیتن یاہو کی امریکا میں ٹرمپ سے ملاقات، غزہ پر بڑا فیصلہ متوقع
غزہ میں قیام امن کیلیے حصہ لینے کو تیار، حماس کو غیرمسلح کرنے کی کوشش میں شریک نہیں، نائب وزیراعظم
غزہ میں بارش اور سردی نے قیامت ڈھا دی، ہزاروں خیمے پانی میں ڈوب گئے، سردی سے اموات کا خدشہ
بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی نیتن یاہو سے مغربی کنارے کے معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہر معاملے پر اتفاق نہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم "درست فیصلہ کریں گے"۔
دوسری جانب نیتن یاہو کو اپنی حکومت میں شامل انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے، جو مغربی کنارے میں مزید یہودی بستیوں کے قیام، علاقے کے انضمام اور فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے کے حامی ہیں۔
اس معاملے پر وائٹ ہاؤس نے باضابطہ طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔