گوادر میں نایاب سمندری بگولے کا مشاہدہ، مغربی سسٹم کے زیرِ اثر بارشوں کی پیش گوئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
گوادر اور اس کے گرد و نواح میں مغربی سسٹم (ویسٹرن ڈسٹربنس) کے اثرات کے دوران ایک نایاب موسمی مظہر سمندری بگولا دیکھا گیا، جس نے ماہرینِ موسمیات اور شہریوں کی توجہ حاصل کر لی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی کم دباؤ کے اس سسٹم کے باعث آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش ہونے کا بھی امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق لینڈ اسپاؤٹس اور واٹر اسپاؤٹس دراصل ہوا کے ایک جیسے گھومتے ہوئے ستون ہوتے ہیں، تاہم ان کی تشکیل کی جگہ مختلف ہوتی ہے۔ واٹر اسپاؤٹس پانی کی سطح پر بنتے ہیں جبکہ لینڈ اسپاؤٹس زمین پر تشکیل پاتے ہیں۔
یہ کمزور بگولوں کی ایک قسم سمجھے جاتے ہیں جو زمین سے اوپر کی جانب بنتے ہیں، عام بگولوں کے برعکس جو بادلوں سے نیچے آتے ہیں۔ لینڈ اسپاؤٹس ظاہری طور پر دھول کے بگولوں سے مشابہ ہوتے ہیں لیکن یہ بادلوں سے جڑے ہوتے ہیں۔
سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات سردار سرفراز کے مطابق گوادر میں نظر آنے والا لینڈ اسپاؤٹ جنوب مغربی بلوچستان کے اطراف مغربی کم دباؤ کے پہنچنے کے باعث بنا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر گوادر سمیت پاکستانی ساحلی علاقوں میں واٹر اسپاؤٹس دیکھے جاچکے ہیں۔
آخری بار 20 جنوری 2019 کو ساحلی پٹی سے تقریباً 57 ناٹیکل میل دور گھوڑا باری کے سمندر میں ایک شاندار واٹر اسپاؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا جو طوفان جیسا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس سے پہلے 28 فروری 2016 کو ماہی گیروں نے ساکونی کلمت خور سے دور بلوچستان کے قریب موسم کے ایک اور نایاب واقعے کی اطلاع دی تھی۔
ماہرین واضح کرتے ہیں کہ نام کے برخلاف لینڈ اسپاؤٹ یا واٹر اسپاؤٹ پانی سے بھرا ہوا ستون نہیں ہوتا بلکہ یہ بادل سے بھری ہوا کا ایک گھومتا ہوا کالم ہوتا ہے جو زمین یا سمندر کی سطح تک پہنچتا ہے۔ واٹر اسپاؤٹ کے اندر نظر آنے والا پانی دراصل بادل میں نمی کے گاڑھا ہونے کے عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔
واٹر اسپاؤٹس کی دو اقسام ہوتی ہیں، ایک طوفانی اور دوسری منصفانہ موسم کی۔ منصفانہ موسم کے واٹر اسپاؤٹس عام طور پر کم رفتار بادلوں سے بنتے ہیں، اسی لیے یہ اکثر تقریباً ایک ہی جگہ پر قائم رہتے ہیں۔ دونوں اقسام کے لیے ہوا میں نمی کی بلند سطح اور نسبتاً گرم پانی کا درجہ حرارت ضروری ہوتا ہے۔
ٹیکنیکل ایڈوائزر میرین (فشریز) محمد معظم خان کے مطابق لینڈ اسپاؤٹس اور واٹر اسپاؤٹس عموماً کمولس قسم کے بادلوں کے ساتھ بنتے ہیں اور ان کا تعلق زیادہ تر گرج چمک سے نہیں ہوتا۔ یہ مظاہر عموماً مختصر دورانیے کے ہوتے ہیں اور خود بخود ختم ہو جاتے ہیں، تاہم واٹر اسپاؤٹس کو طویل عرصے سے سنگین سمندری خطرات میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پانی پر بننے والے مضبوط اسپاؤٹس چھوٹی کشتیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، اس لیے ایسے مظاہر سے مناسب فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک عام واٹر اسپاؤٹ کا اوسط قطر تقریباً 50 میٹر ہوتا ہے، جبکہ اس میں ہوا کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ اگرچہ بعض واٹر اسپاؤٹس ایک گھنٹے تک بھی موجود رہ سکتے ہیں، تاہم ان کی اوسط زندگی عموماً 5 سے 10 منٹ کے درمیان ہوتی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل واٹر اسپاؤٹس لینڈ اسپاؤٹس لینڈ اسپاؤٹ واٹر اسپاؤٹ کے مطابق ہوتے ہیں بنتے ہیں ہوتا ہے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :