بلوچستان کے ساحلی علاقے میں 6 سال بعد لینڈ اسپاؤٹ دیکھا گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
بلوچستان کے ساحلی علاقے میں عرصہ 6 سال بعد لینڈ اسپاؤٹ دیکھا گیا، لینڈ اور واٹر اسپاوٹس ہوا کے ستون نما بگولے ہوتے ہیں جو بیک وقت زمین اور سطح سمندر پر بادلوں میں پیوست دکھائی دیتے ہیں۔
دونوں اقسام کے اسپاؤٹس ہوا میں زیادہ نمی سطح سمندرکے زیادہ درجہ حرارت کے سبب تشکیل پاتے ہیں، اسپائوٹس اس کا قطرتقریباً 50 میٹر ہے جبکہ اردگرچلنے والی ہواوں کی رفتار80کلومیٹرفی گھنٹہ تک ہوسکتی ہے۔
سردار سرفراز سابق ڈائریکٹر محکمہ موسمیات پاکستان میں داخل ہونے والے ویسٹرن ڈسٹربنس(مغربی ہوائوں کے سلسلے)کے زیر اثربارشوں سے قبل بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں ایک غیرمعمولی منظرلینڈ اسپائوٹ کی صورت میں دیکھاگیا جس میں زمین سے آسمان کی بلندی تک ایک بگولہ انسانی آنکھ کے مشاہدے کا حصہ بنا جو قرب وجوار کی آبادی کیلیے حیرت انگیز منظر تھا۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے منگل سے بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، یہ قدرتی سرگرمی اسی نظام کے سبب تشکیل پایا، ماہرین کے مطابق لینڈ اسپائوٹس اورواٹراسپاؤٹس ہوا کے ایک ہی انداز میں گھومنے والے ستون ہیں۔
سابق ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردار سرفرازکے مطابق بلوچستان کے جنوب مغربی علاقے میں لینڈ اسپائوٹ مغربی کم دبائوکے پاکستان پہنچنے کے سبب بنا ہے۔
تیکنیکی مشیر ڈبیلو ڈبیلو ایف (پاکستان) محمد معظم خان کے مطابق لینڈ اسپائوٹس اور واٹراسپائوٹس عموماً ستون نما قسم کے بادلوں کے ساتھ بنتے ہیں اس قسم کے لینڈ اسپائوٹس یا واٹراسپائوٹس کا تعلق عام طور پرگرج چمک کے ساتھ نہیں ہوتا،عام طورپریہ قدرتی سرگرمی تھوڑے وقت میں خودبخود ختم ہوجاتی ہے۔معظم خان کے مطابق واٹراسپارٹس کو طویل عرصے سے سنگین سمندری خطرات کے طورپرتسلیم کیا جاتا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلوچستان کے کے مطابق
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔