کیوی آل راؤنڈر ڈوگ بریسویل نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار آل راؤنڈر ڈاوگ بریسویل نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا ہے، جس کے بعد ان کا ایک طویل اور یادگار کیریئر اختتام کو پہنچ گیا۔
نیوزی لینڈ کرکٹ کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ڈاوگ بریسویل نے کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
ڈاوگ بریسویل نے اپنے کیریئر کے دوران نیوزی لینڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں فارمیٹس میں خدمات انجام دیں۔
انہوں نے 28 ٹیسٹ میچز، 21 ایک روزہ بین الاقوامی اور 20 ٹی ٹوئنٹی میچز میں قومی ٹیم کی جرسی پہنی اور مختلف مواقع پر اپنی آل راؤنڈ کارکردگی سے ٹیم کو کامیابیاں دلائیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ڈاوگ بریسویل نے بین الاقوامی کرکٹ میں مجموعی طور پر 915 رنز اسکور کیے، جب کہ گیند بازی میں 120 وکٹیں حاصل کر کے خود کو ایک کارآمد آل راؤنڈر کے طور پر منوایا۔ وہ اپنی جارحانہ بیٹنگ، درست لائن لینتھ اور مشکل حالات میں ذمہ دارانہ کھیل کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔
نیوزی لینڈ کرکٹ حلقوں میں ڈاوگ بریسویل کی ریٹائرمنٹ کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ان کی خدمات کو سراہا جا رہا ہے اور ٹیم کے لیے ان کے کردار کو یاد رکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی نیوزی لینڈ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔