کراچی: گٹر حادثات حکومتی نااہلی کا نتیجہ، واٹر کارپوریشن موت بانٹنے والا ادارہ ہے، منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شہر میں ایک اور معصوم بچے کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے بدترین انتظامی نااہلی اور مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے، یہ حادثہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ قابض میئر کی زیر نگرانی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے جو شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے ان کی جانوں کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ شاہ فیصل ٹاؤن ہو یا کورنگی، پورا کراچی انتظامی غفلت کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کھلے مین ہول اور ٹوٹے ہوئے گٹر ڈھکن روزانہ کی بنیاد پر حادثات کو دعوت دے رہے ہیں لیکن ذمہ دار ادارے مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن بچوں کی جانیں لے رہی ہے اور یہ صورتحال کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ مجرمانہ نااہلی اور حکومتی سرپرستی کا شاخسانہ ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ 47 ارب روپے سالانہ بجٹ رکھنے والا واٹر کارپوریشن اگر گٹروں پر ڈھکن تک نہیں لگا سکتا تو پھر یہ ادارہ آخر کس کام کا ہے، آخر کب تک کراچی کے شہری اپنے بچوں کی لاشیں گٹروں سے نکالتے رہیں گے اور حکمران سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف رہیں گے۔
منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ قابض میئر کی زیر نگرانی واٹر کارپوریشن شہریوں کے لیے نہیں بلکہ موت بانٹنے والا ادارہ بن چکی ہے،شہر میں بنیادی انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے، مگر حکومت اور بلدیاتی ادارے زمینی حقائق تسلیم کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اس ظلم پر خاموش نہیں رہے گی اور کراچی کے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی، اس افسوسناک واقعے کے ذمہ داران کا فوری تعین کیا جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے المناک واقعات کا سلسلہ روکا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔