بھارتی نیوکلیئر سیفٹی پر پوری دنیا تشویش میں مبتلا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
بھارت کا نیوکلیئر سیفٹی نظام بظاہر قوانین اور اداروں پر مشتمل ہے، مگر عملی سطح پر سامنے آنے والے واقعات ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ریڈیواکٹو مواد کی اتفاقیہ برآمدگیاں، بین الاقوامی ریکارڈ میں درج بار بار کے واقعات، اور حادثاتی غلطیوں نے عالمی مبصرین کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ مسئلہ قانون کی کمی نہیں بلکہ شفافیت، نگرانی اور احتساب کے مؤثر فقدان کا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں نیوکلیئر مواد کے واقعات: اسٹریٹجک طاقت یا حفاظتی کمزوری؟
بھارت کا نیوکلیئر ریگولیٹری فریم ورک کاغذ پر موجود ہے، تاہم متعدد رپورٹس کے مطابق اس پر عملدرآمد میں عدم تسلسل پایا جاتا ہے۔ ریڈیواکٹو مواد کی برآمدگیاں اکثر حادثاتی طور پر سامنے آتی ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ نگرانی کا نظام مؤثر نہیں۔
بین الاقوامی ماہرین اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ بھارت کی No First Use پالیسی پر وقت کے ساتھ ابہام بڑھا ہے، خاص طور پر جدید میزائل سسٹمز اور روایتی و نیوکلیئر صلاحیتوں کے درمیان فرق دھندلا ہونے کے باعث۔ یہ صورتحال خطے میں غلط فہمی یا حادثاتی تصادم کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے کوبالٹ سے سیزیم تک: بھارت میں نیوکلیئر نگرانی کی ناکامیوں کی کہانی
IAEA کے واقعاتی ڈیٹا میں بھارت سے متعلق متعدد اندراجات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ ایک طویل المدتی پیٹرن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا حل زیادہ شفافیت، آزادانہ نگرانی، اور سخت احتسابی نظام میں مضمر ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اعتماد قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ نیوکلیئر اور ریڈیولاجیکل سیفٹی کو محض تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ پالیسی اور گورننس کے ایک سنجیدہ مسئلے کے طور پر لیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت نیوکلیئر سیفٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔