Jasarat News:
2026-07-24@01:16:35 GMT

افغانستان کی بدلتی ترجیحات کے نتائج

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

طالبان کے دوسرے دورِ حکومت کا ہنی مون پیریڈ ختم ہونے کے بعد افغانستان ایک بار پھر ایک نازک سفارتی موڑ پر کھڑا نظر آتا ہے۔ ایک طرف طالبان حکومت صحت جیسے حساس شعبے میں بھارت کے ساتھ تعاون بڑھانے کی بات کر رہی ہے، تو دوسری جانب پاکستان کے ساتھ دہائیوں پر محیط تجارتی اور جغرافیائی انحصار کو کم کرنے کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں۔ افغانستان کے وزیر ِ صحت عامہ نور جلال جلالی کا حالیہ دورۂ بھارت اور طالبان کے نائب وزیر ِ اعظم ملا عبدالغنی برادر کے پاکستان سے تجارت محدود کرنے کے بیانات دراصل اسی بدلتی ترجیحی سمت کی عکاسی کرتے ہیں جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے دور رس اثرات اور نتائج رکھتی ہے۔

افغان وزیر ِ صحت نور جلال جلالی نے اپنے دورۂ بھارت کو کابل اور نئی دہلی کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کا ’’نیا باب‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کا صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے جہاں ادویات کی قلت، جدید طبی سہولتوں کی کمی، تربیت یافتہ عملے کا فقدان اور مہنگا علاج بنیادی مسائل ہیں۔ بھارت کے ساتھ تعاون کا مقصد ان مسائل کا فوری اور عملی حل تلاش کرنا ہے۔ اس دورے کے دوران بھارت کی جانب سے پانچ ملین ڈالر مالیت کی ویکسین، تین ملین ڈالر کی ریڈیوتھراپی مشین، ایک ملین ڈالر کی کینسر ادویات، سی ٹی اسکین مشین اور تھیلے سیمیا کے علاج کے مرکز کے قیام جیسے وعدے صحت کے بے پناہ مسائل سے دوچار افغان عوام کے لیے بظاہر ایک بڑی پیش رفت دکھائی دیتے ہیں۔ ان وعدوں کی افادیت طالبان حکومت کے لیے ایسے میں مزید بڑھ جاتی ہے جب پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اپنے عروج پر ہیں اور پاک افغان سرحد جو افغان مریضوں کے لیے ہر وقت کھلی رہتی تھی گزشتہ تین ماہ سے بند ہے جس کا سب سے زیادہ اثر افغان مریضوں، طلبہ اور تاجروں پر پڑھ رہا ہے۔

بلاشبہ صحت کے شعبے میں کسی بھی جانب سے کسی بھی قسم کی امداد افغان عوام کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتی ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعاون صرف انسانی بنیادوں پر ہے یا اس کے پیچھے خطے کی بدلتی سیاست بھی کارفرما ہے؟ افغانستان اور بھارت کے درمیان کوئی زمینی سرحد موجود نہیں، اس کے باوجود بھارت کا افغانستان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلسل اپنا اثر و رسوخ بڑھانا محض اتفاق نہیں لگتا۔ ماضی میں بھی بھارت نے حامد کرزئی اور ڈاکٹر اشرف غنی کی امریکی پروردہ حکومتوں کے دوران تعمیر نو، تعلیم اور صحت کے منصوبوں کے ذریعے افغانستان میں اپنی موجودگی کو مضبوط کیا تھا جسے پاکستان ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتا رہا ہے۔

ان دنوں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اتنے شدید کشیدگی کا شکار ہیں کہ کبھی ایسی کشیدگی افغانستان میں سوویت افواج کی موجودگی اور وہاں پاکستان مخالف کمیونسٹ حکومتوں کے دوران بھی نہیں رہی تھی حالانکہ طالبان کے دوسرے جنم کے بعد عام تاثر یہی تھا کہ طالبان چونکہ پاکستان کے پراکسی ہیں اس لیے ان کے برسراقتدار آنے کے بعد پاک افغان تعلقات طالبان کے پہلے دور حکومت کی طرح دوستانہ بنیادوں پر استوار ہوں گے لیکن سرحدی جھڑپوں، سیاسی تناؤ اور باہمی بداعتمادی کے نتیجے میں طورخم اور چمن سمیت اہم سرحدی راستے گزشتہ کئی ہفتوں سے بند ہیں۔ اس بندش نے دونوں ممالک کے تاجروں، کسانوں اور عام شہریوں کو شدید معاشی نقصان پہنچایا ہے۔ طالبان کے نائب وزیر ِ اعظم ملا عبدالغنی برادر کا گزشتہ دنوں دیا گیا یہ بیان کہ افغان تاجر پاکستان کے بجائے متبادل ممالک کے ذریعے تجارت کریں، دراصل اسی تناؤ کا تسلسل بلکہ ردعمل ہے۔

ملا عبدالغنی برادر نے واضح طور پر کہا کہ اگر تاجر پاکستان کے بجائے دیگر راستے تلاش نہیں کریں گے تو حکومت ان کی مدد نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق پاکستان کے ساتھ تجارت میں سب سے بڑا حصہ ادویات کی درآمد کا ہے، جس کے لیے تاجروں کو تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ خودمختاری اور دباؤ سے نکلنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ ماہرین ِ معیشت اور تجارتی تنظیموں کے نمائندے اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کے لیے پاکستان کے متبادل تجارتی راستے نہ صرف مہنگے بلکہ وقت طلب بھی ہیں۔ پاک افغان مشترکہ چیمبر کے رہنما خان جان الکوزئی کے مطابق پاکستان کے ذریعے تجارت سستی، تیز اور نسبتاً آسان ہے۔ لاہور سے روانہ ہونے والا ٹرک چند گھنٹوں میں جلال آباد پہنچ جاتا ہے، جب کہ وسطی ایشیا، ایران یا چین کے راستے یہی سامان کئی دنوں یا ہفتوں میں پہنچتا ہے جس سے لاگت اور وقت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ افغانستان ایک خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے جس کی بیرونی دنیا تک رسائی کا سب سے مختصر اور قدرتی راستہ پاکستان کی بندرگاہیں ہیں۔ چاہ بہار اور بندر عباس جیسے ایرانی راستے اگرچہ موجود ہیں مگر عالمی پابندیوں، طویل فاصلے اور اضافی اخراجات کے باعث وہ پاکستان کا متبادل نہیں بن سکتے یہی وجہ ہے کہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ طویل مدت تک سرحدی بندش سے افغانستان میں مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی قلت اور صنعتی سست روی پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب اعداد وشمار بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے افغانستان کو تقریباً ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کی برآمدات کیں، جب کہ افغانستان سے پاکستان کی درآمدات کا حجم اس سے کہیں کم رہا۔ غیر رسمی تجارت کو شامل کیا جائے تو یہ حجم مزید بڑھ جاتا ہے۔ سیمنٹ، چاول، ادویات، سبزیاں، پھل، پولٹری اور دیگر اشیا افغانستان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں جن کا بڑا حصہ پاکستان سے آتا ہے۔ پاکستانی حکام اگرچہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ افغانستان کے فیصلے سے پاکستان کو زیادہ نقصان نہیں ہو گا بلکہ اسمگلنگ میں کمی اور سیکورٹی بہتر ہو گی مگر تجارتی ماہرین اس سے مکمل اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق افغانستان ایک بڑی برآمدی منڈی ہے اور اس سے ہاتھ دھونا پاکستانی برآمدات کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس پوری صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دنیا کے دیگر خطے اختلافات کے باوجود اقتصادی تعاون کی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ یورپی یونین ہو یا شنگھائی تعاون تنظیم، پرانے دشمن آج مشترکہ منڈیوں اور علاقائی ترقی کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس جنوبی ایشیا میں سارک جیسی تنظیم غیر فعال ہو چکی ہے اور پاکستان اپنے تینوں اطراف میں تجارتی رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں افغانستان کا پاکستان کے ساتھ معاملات درست کرنے کے بجائے بھارت کی جانب جھکاؤ وقتی طور پر کچھ فوائد تو دے سکتا ہے، مگر طویل مدت میں یہ حکمت ِ عملی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

پاک افغان تعلقات میں جغرافیہ، تاریخ، ثقافت، زبان اور انسانی روابط وہ حقائق ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لاکھوں افغانوں کی دہائیوں تک پاکستان میں رہائش، کاروبار اور تعلیم اس باہمی تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک ضد، انا اور وقتی سیاسی فائدے سے نکل کر حقیقت پسندانہ سوچ اپنائیں۔ تجارت، صحت، تعلیم اور عوامی روابط کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں۔ بصورتِ دیگر اس کشیدگی کا سب سے بڑا نقصان وہ عوام اٹھائیں گے جو پہلے ہی جنگ، غربت اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ خطے کا مستقبل تصادم نہیں بلکہ تعاون کا متقاضی ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان اور افغانستان کو پائیدار استحکام کی طرف لے کر جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر عالمگیر آفریدی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان کے ساتھ افغانستان کے کہ افغانستان کر رہے ہیں طالبان کے پاک افغان کہ افغان کے بجائے کے مطابق کا سب سے کرنے کے صحت کے ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف