افغانستان کی بدلتی ترجیحات کے نتائج
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
طالبان کے دوسرے دورِ حکومت کا ہنی مون پیریڈ ختم ہونے کے بعد افغانستان ایک بار پھر ایک نازک سفارتی موڑ پر کھڑا نظر آتا ہے۔ ایک طرف طالبان حکومت صحت جیسے حساس شعبے میں بھارت کے ساتھ تعاون بڑھانے کی بات کر رہی ہے، تو دوسری جانب پاکستان کے ساتھ دہائیوں پر محیط تجارتی اور جغرافیائی انحصار کو کم کرنے کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں۔ افغانستان کے وزیر ِ صحت عامہ نور جلال جلالی کا حالیہ دورۂ بھارت اور طالبان کے نائب وزیر ِ اعظم ملا عبدالغنی برادر کے پاکستان سے تجارت محدود کرنے کے بیانات دراصل اسی بدلتی ترجیحی سمت کی عکاسی کرتے ہیں جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے دور رس اثرات اور نتائج رکھتی ہے۔
افغان وزیر ِ صحت نور جلال جلالی نے اپنے دورۂ بھارت کو کابل اور نئی دہلی کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کا ’’نیا باب‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کا صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے جہاں ادویات کی قلت، جدید طبی سہولتوں کی کمی، تربیت یافتہ عملے کا فقدان اور مہنگا علاج بنیادی مسائل ہیں۔ بھارت کے ساتھ تعاون کا مقصد ان مسائل کا فوری اور عملی حل تلاش کرنا ہے۔ اس دورے کے دوران بھارت کی جانب سے پانچ ملین ڈالر مالیت کی ویکسین، تین ملین ڈالر کی ریڈیوتھراپی مشین، ایک ملین ڈالر کی کینسر ادویات، سی ٹی اسکین مشین اور تھیلے سیمیا کے علاج کے مرکز کے قیام جیسے وعدے صحت کے بے پناہ مسائل سے دوچار افغان عوام کے لیے بظاہر ایک بڑی پیش رفت دکھائی دیتے ہیں۔ ان وعدوں کی افادیت طالبان حکومت کے لیے ایسے میں مزید بڑھ جاتی ہے جب پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اپنے عروج پر ہیں اور پاک افغان سرحد جو افغان مریضوں کے لیے ہر وقت کھلی رہتی تھی گزشتہ تین ماہ سے بند ہے جس کا سب سے زیادہ اثر افغان مریضوں، طلبہ اور تاجروں پر پڑھ رہا ہے۔
بلاشبہ صحت کے شعبے میں کسی بھی جانب سے کسی بھی قسم کی امداد افغان عوام کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتی ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعاون صرف انسانی بنیادوں پر ہے یا اس کے پیچھے خطے کی بدلتی سیاست بھی کارفرما ہے؟ افغانستان اور بھارت کے درمیان کوئی زمینی سرحد موجود نہیں، اس کے باوجود بھارت کا افغانستان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلسل اپنا اثر و رسوخ بڑھانا محض اتفاق نہیں لگتا۔ ماضی میں بھی بھارت نے حامد کرزئی اور ڈاکٹر اشرف غنی کی امریکی پروردہ حکومتوں کے دوران تعمیر نو، تعلیم اور صحت کے منصوبوں کے ذریعے افغانستان میں اپنی موجودگی کو مضبوط کیا تھا جسے پاکستان ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتا رہا ہے۔
ان دنوں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اتنے شدید کشیدگی کا شکار ہیں کہ کبھی ایسی کشیدگی افغانستان میں سوویت افواج کی موجودگی اور وہاں پاکستان مخالف کمیونسٹ حکومتوں کے دوران بھی نہیں رہی تھی حالانکہ طالبان کے دوسرے جنم کے بعد عام تاثر یہی تھا کہ طالبان چونکہ پاکستان کے پراکسی ہیں اس لیے ان کے برسراقتدار آنے کے بعد پاک افغان تعلقات طالبان کے پہلے دور حکومت کی طرح دوستانہ بنیادوں پر استوار ہوں گے لیکن سرحدی جھڑپوں، سیاسی تناؤ اور باہمی بداعتمادی کے نتیجے میں طورخم اور چمن سمیت اہم سرحدی راستے گزشتہ کئی ہفتوں سے بند ہیں۔ اس بندش نے دونوں ممالک کے تاجروں، کسانوں اور عام شہریوں کو شدید معاشی نقصان پہنچایا ہے۔ طالبان کے نائب وزیر ِ اعظم ملا عبدالغنی برادر کا گزشتہ دنوں دیا گیا یہ بیان کہ افغان تاجر پاکستان کے بجائے متبادل ممالک کے ذریعے تجارت کریں، دراصل اسی تناؤ کا تسلسل بلکہ ردعمل ہے۔
ملا عبدالغنی برادر نے واضح طور پر کہا کہ اگر تاجر پاکستان کے بجائے دیگر راستے تلاش نہیں کریں گے تو حکومت ان کی مدد نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق پاکستان کے ساتھ تجارت میں سب سے بڑا حصہ ادویات کی درآمد کا ہے، جس کے لیے تاجروں کو تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ خودمختاری اور دباؤ سے نکلنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ ماہرین ِ معیشت اور تجارتی تنظیموں کے نمائندے اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کے لیے پاکستان کے متبادل تجارتی راستے نہ صرف مہنگے بلکہ وقت طلب بھی ہیں۔ پاک افغان مشترکہ چیمبر کے رہنما خان جان الکوزئی کے مطابق پاکستان کے ذریعے تجارت سستی، تیز اور نسبتاً آسان ہے۔ لاہور سے روانہ ہونے والا ٹرک چند گھنٹوں میں جلال آباد پہنچ جاتا ہے، جب کہ وسطی ایشیا، ایران یا چین کے راستے یہی سامان کئی دنوں یا ہفتوں میں پہنچتا ہے جس سے لاگت اور وقت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ افغانستان ایک خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے جس کی بیرونی دنیا تک رسائی کا سب سے مختصر اور قدرتی راستہ پاکستان کی بندرگاہیں ہیں۔ چاہ بہار اور بندر عباس جیسے ایرانی راستے اگرچہ موجود ہیں مگر عالمی پابندیوں، طویل فاصلے اور اضافی اخراجات کے باعث وہ پاکستان کا متبادل نہیں بن سکتے یہی وجہ ہے کہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ طویل مدت تک سرحدی بندش سے افغانستان میں مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی قلت اور صنعتی سست روی پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب اعداد وشمار بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے افغانستان کو تقریباً ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کی برآمدات کیں، جب کہ افغانستان سے پاکستان کی درآمدات کا حجم اس سے کہیں کم رہا۔ غیر رسمی تجارت کو شامل کیا جائے تو یہ حجم مزید بڑھ جاتا ہے۔ سیمنٹ، چاول، ادویات، سبزیاں، پھل، پولٹری اور دیگر اشیا افغانستان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں جن کا بڑا حصہ پاکستان سے آتا ہے۔ پاکستانی حکام اگرچہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ افغانستان کے فیصلے سے پاکستان کو زیادہ نقصان نہیں ہو گا بلکہ اسمگلنگ میں کمی اور سیکورٹی بہتر ہو گی مگر تجارتی ماہرین اس سے مکمل اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق افغانستان ایک بڑی برآمدی منڈی ہے اور اس سے ہاتھ دھونا پاکستانی برآمدات کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس پوری صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دنیا کے دیگر خطے اختلافات کے باوجود اقتصادی تعاون کی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ یورپی یونین ہو یا شنگھائی تعاون تنظیم، پرانے دشمن آج مشترکہ منڈیوں اور علاقائی ترقی کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس جنوبی ایشیا میں سارک جیسی تنظیم غیر فعال ہو چکی ہے اور پاکستان اپنے تینوں اطراف میں تجارتی رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں افغانستان کا پاکستان کے ساتھ معاملات درست کرنے کے بجائے بھارت کی جانب جھکاؤ وقتی طور پر کچھ فوائد تو دے سکتا ہے، مگر طویل مدت میں یہ حکمت ِ عملی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
پاک افغان تعلقات میں جغرافیہ، تاریخ، ثقافت، زبان اور انسانی روابط وہ حقائق ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لاکھوں افغانوں کی دہائیوں تک پاکستان میں رہائش، کاروبار اور تعلیم اس باہمی تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک ضد، انا اور وقتی سیاسی فائدے سے نکل کر حقیقت پسندانہ سوچ اپنائیں۔ تجارت، صحت، تعلیم اور عوامی روابط کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں۔ بصورتِ دیگر اس کشیدگی کا سب سے بڑا نقصان وہ عوام اٹھائیں گے جو پہلے ہی جنگ، غربت اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ خطے کا مستقبل تصادم نہیں بلکہ تعاون کا متقاضی ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان اور افغانستان کو پائیدار استحکام کی طرف لے کر جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کے ساتھ افغانستان کے کہ افغانستان کر رہے ہیں طالبان کے پاک افغان کہ افغان کے بجائے کے مطابق کا سب سے کرنے کے صحت کے ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن
پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔
I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.
Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…
— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026
ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن
انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔
مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027