خیبرپختونخوا سے فوج چلی جائے تو پی ٹی آئی دو دن صوبہ نہیں سنبھال سکتی، گورنر کے پی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، فوج صوبے سے نکلے تو دو دن بھی صوبہ نہیں سنبھال سکتے۔
پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ناگزیر ہیں صوبائی حکومت کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبے میں امن نہیں ہوگا تو کاروبار اور معیشت کیسے چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی فیصلوں کا حل سیاسی طریقے سے ہی نکالا جانا چاہیے اور ہماری کوشش ہے کہ تمام سیاسی معاملات مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے طے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کو ہم نے ایک میز پر بٹھایا کیونکہ ملک کو اس وقت انتشار نہیں بلکہ استحکام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر بھٹو کی شہادت جیسے سانحات پر بھی ہم نے پرامن رویہ اپنایا اور سسٹم کے اندر رہ کر حل تلاش کیا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہم نے جمہوری طریقے سے آصف علی زرداری کو دوسری بار صدر منتخب کیا جبکہ نئے لیڈر آف اپوزیشن کا نام بھی پی ٹی آئی کی جانب سے دیا گیا۔
گورنر کے پی کے نے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ واپس جائیں اور آئندہ ویزا کے ساتھ پاکستان آئیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق ہر مقدمے میں صوبے کے ساتھ کھڑا ہے اور گالم گلوچ سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف انکار کر دیا جاتا ہے جبکہ اڈیالہ جیل میں بیٹھا ایک شخص سوشل میڈیا پر انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو جنگی میدان میں شکست دی گئی، بھارت کا اسلحے اور فوج پر ناز خاک میں مل گیا اور دنیا ہمارے فیلڈ مارشل کی تعریف کر رہی ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ جو شخص جیل میں ہے وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے وہاں پہنچا، کسی نے اسے زبردستی اندر نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی نے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔