اسلام آباد:

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، فوج صوبے سے نکلے تو دو دن بھی صوبہ نہیں سنبھال سکتے۔

پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ  خیبرپختونخوا میں امن و امان کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ناگزیر ہیں صوبائی حکومت کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبے میں امن نہیں ہوگا تو کاروبار اور معیشت کیسے چلے گی۔

 انہوں نے کہا کہ سیاسی فیصلوں کا حل سیاسی طریقے سے ہی نکالا جانا چاہیے اور ہماری کوشش ہے کہ تمام سیاسی معاملات مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے طے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کو ہم نے ایک میز پر بٹھایا کیونکہ ملک کو اس وقت انتشار نہیں بلکہ استحکام کی ضرورت ہے۔

انہوں نے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر بھٹو کی شہادت جیسے سانحات پر بھی ہم نے پرامن رویہ اپنایا اور سسٹم کے اندر رہ کر حل تلاش کیا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہم نے جمہوری طریقے سے آصف علی زرداری کو دوسری بار صدر منتخب کیا جبکہ نئے لیڈر آف اپوزیشن کا نام بھی پی ٹی آئی کی جانب سے دیا گیا۔

گورنر کے پی کے نے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ واپس جائیں اور آئندہ ویزا کے ساتھ پاکستان آئیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق ہر مقدمے میں صوبے کے ساتھ کھڑا ہے اور گالم گلوچ سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف انکار کر دیا جاتا ہے جبکہ اڈیالہ جیل میں بیٹھا ایک شخص سوشل میڈیا پر انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو جنگی میدان میں شکست دی گئی، بھارت کا اسلحے اور فوج پر ناز خاک میں مل گیا اور دنیا ہمارے فیلڈ مارشل کی تعریف کر رہی ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ جو شخص جیل میں ہے وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے وہاں پہنچا، کسی نے اسے زبردستی اندر نہیں کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی نے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری

خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔

نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔

ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان