کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا افتتاح، کرایہ کتنا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن اور وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا افتتاح کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق اس موقع پر حکام نے شرجیل انعام میمن کو بسوں کی خصوصیات سے متعلق بریفنگ بھی دی جبکہ شرجیل میمن کا کہنا تھا ہم نے عوام سے ڈبل ڈیکر بسوں کا وعدہ کیا تھا، ایسے پروجیکٹ لا رہے ہیں جس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ ہو۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا ڈبل ڈیکر کا روٹ 22 کلو میٹر پر مشتمل ہے اور اس کا کرایہ 80 سے 120 روپے ہوگا، ڈبل ڈیکر بس سروس ابتدائی طور پر ملیر سے شارع فیصل تک چلائی جائیں گی، کوشش ہے کہ سب سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں نظر آئیں۔
’’60 بندوں نے مجھے مارا لیکن سوری کا ایس بھی میرے منہ سے نہیں نکلا اور آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں گرا‘‘رجب بٹ
ان کا کہنا تھا بس کے کرایوں میں سبسڈی دے رہے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر عوام کے لیے سہولیات بڑھا رہے ہیں،کوشش ہے کہ نئے سال میں ٹرانسپورٹ کی سہولیات سندھ بھر میں دی جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ پیپلز بس سروس سے سوا لاکھ لوگ روزانہ سفر کر رہے ہیں جبکہ گرین لائن بس سروس پر 65 ہزار لوگ سفر کر رہے ہیں، ریڈ لائن، بی آر ٹی پر دوبارہ کام شروع ہوگیا ہے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کراچی کی سڑکوں کے لیے تمام لوگ ملکر کام کر رہے ہیں، صعنتی علاقوں کے لیے 9 ارب روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے جبکہ شاہراہ بھٹو اسٹیٹ آف دی آرٹ کا تحفہ عوام کو دیا گیا ہے۔
چین نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، چینی وزیر خارجہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا ڈبل ڈیکر بس رہے ہیں
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔