اویس کیانی :  وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس فاؤنڈیشن (NPF) کا دورہ کیااور اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
قائم مقام مینیجنگ ڈائریکٹر نیشنل پولیس فاؤنڈیشن علی ناصر رضوی نے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کوادارے کی مجموعی کارکردگی اور پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اہم اعلانات کئے،اس موقع پرنیشنل پولیس اکیڈمی میں زیرِ تربیت اے ایس پیز کو ہر سال آسان اورکم اقساط پر پلاٹس فراہم کرنے کا فیصلہ کیاگیا،اس کے علاوہ پاکستان بھر سے ہر سال 10 انسپکٹرز،سب انسپکٹرز اور اے ایس آئیز کو سکالرشپ پر پولیس سے متعلق کورسز کے لیے بیرونِ ملک بھجوانے کابھی فیصلہ کیاگیا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیاگیاکہ 15 کانسٹیبلز کے بیٹے یا بیٹی جو پاکستان کی بہترین جامعات میں داخلہ حاصل کریں، اُن کے تعلیمی اخراجات نیشنل پولیس فاؤنڈیشن برداشت کرے گی،ہر سال 5 ایس پی/ایس ایس پی رینک کے افسران کو اے آئی میں ڈگری کے لیے سکالرشپ پر بیرونِ ملک بھجوا یاجائے گا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ نے نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے وسائل میں مزید اضافے کے لیے جامع پلان طلب کر لیا،انہوں نے ادارے کو خسارے سے نکال کر سرپلس میں لانے پر پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔

ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی

 محسن نقوی نے اس موقع پر کہاکہ نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کو پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے ایک انتہائی فعال اور متحرک ادارہ بنانا ہے۔ 
اجلاس میں نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے تمام ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: داخلہ محسن نقوی وفاقی وزیر کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا