ہیلتھ کیئر کا معاملہ نیشنل سیکورٹی کا سنگین مسئلہ بن چکا، مصطفی کمال
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-08-16
اسلام آ باد (مانیٹر نگ ڈ یسک ) وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہیلتھ کیئر کا معاملہ محض علاج تک محدود نہیں بلکہ یہ نیشنل سیکورٹی کا سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس اینڈ ون ہیلتھ اپروچ پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ انسان آخری سانس تک سیکھتا ہے اور ہمیں شعبہ صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے سمجھنا ہو گا۔ مصطفی کمال نے واضح کیا کہ اگر ہیلتھ کیئر سسٹم کو درست نہ کیا گیا تو یہ معیشت، دفاع اور مجموعی نظام کو کھا جائے گا۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہمیں اچھا کہلوانے کا شوق چھوڑ کر اپنا فرض ادا کرنا ہو گا کیونکہ اگر تنقید نہیں ہو رہی تو اس کا مطلب ہے کہ کام نہیں ہو رہا۔ وفاقی وزیر نے پولیو اور اینٹی بائیوٹکس کے مضر اثرات سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے اور اینٹی بائیوٹکس و ہیلتھ کیئر سسٹم کے حوالے سے مؤثر مہم شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہیلتھ کیئر وفاقی وزیر
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔