ای سی سی میں انڈر 19 کرکٹ ٹیم، بلٹ پروف گاڑیوں کیلئے گرانٹس منظور
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی ای سی سی نے پاکستان انڈر 19 مینز کرکٹ ٹیم کو ان کی شاندار کارکردگی اور بین الاقوامی کامیابی کے اعتراف میں انعامی رقم کی ادائیگی اور بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منگل کووزارت خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک ، وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے شرکت کی جبکہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور سینئر حکام بھی موجود تھے۔اجلاس کے آغاز میں کمیٹی نے سابق وفاقی وزیر خزانہ اور سابق گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان ڈاکٹر شمشاد اختر کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ مرحومہ کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ملک کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو سراہا۔ کمیٹی نے سوگوار خاندان اور رفقاء سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ اجلاس میں دفاع ڈویژن کی جانب سے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹ سے متعلق سمری کی بھی منظوری دیدی گئی۔ اجلاس کوبتایاگیا کہ یہ فیصلہ موجود آپریشنل ضروریات اور سکیورٹی سے متعلق تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان آئندہ چند ہفتوں میں چینی کیپیٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈ جاری کرنے کے لیے تیار ہے اور یہ اقدام پاکستان اور چین کے درمیان مالی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ چائنا گلوبل ٹیلی وژن نیٹ ورک ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات مسلسل مضبوط، مستحکم اور متنوع ہو رہے ہیں اور اب یہ تعلقات صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع، مارکیٹ پر مبنی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے چین کو پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان کی اقتصادی ترجیحات سے متعلق ایک سوال پر سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ زراعت، معدنیات و کان کنی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت وہ شعبے ہیں جن میں چینی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے میں تعاون صرف سرمایہ کاری تک محدود نہیں بلکہ علم کی منتقلی اور تکنیکی معاونت کو بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی معاونت صرف تجارت اور سرمایہ کاری تک محدود نہیں رہی بلکہ اہم اقتصادی ادوار میں، بشمول آئی ایم ایف پروگرام کے تناظر میں، چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پانڈا بانڈ کے اجرا سے پاکستان کو دنیا کی دوسری سب سے بڑی اور گہری کیپیٹل مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو گی، جس سے امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے اور یورو و سکوک مارکیٹس کے ساتھ ساتھ فنانسنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نہ صرف جغرافیائی و سیاسی ترجیحات پر ہم آہنگ ہیں بلکہ ایک طویل المدتی اقتصادی ایجنڈے پر بھی متفق ہیں، جو آئندہ برسوں میں پاک چین آل ویدر سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر خزانہ سرمایہ کاری پاکستان ا نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔