2025 میں کراچی میں ٹریفک حادثات کی سب سے زیادہ شرح، چھیپا کے اعدادوشمار جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چھیپا فاؤنڈیشن نے سال 2025 میں کراچی میں پیش آنے والے مختلف حادثات اور سانحات میں جاں بحق و زخمی ہونے والے افراد کے تفصیلی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق ٹریفک حادثات کی شرح سب سے زیادہ رہی، جس میں 857 افراد ہلاک ہوئے جن میں 670 مرد، 89 خواتین، 74 بچے اور 24 بچیاں شامل ہیں۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد 12,188 رہی، جس میں 9,550 مرد، 1,904 خواتین، 563 بچے اور 171 بچیاں شامل ہیں۔
ڈکیتی اور مزاحمت کے دوران 91 شہری ہلاک ہوئے جبکہ 35 زخمی ہوئے، فائرنگ کے واقعات میں 419 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 1,659 زخمی ہوئے۔ تشدد زدہ لاشیں 23 اور بوری بند لاشیں 5 برآمد ہوئیں، جبکہ چھریوں کے وار سے 46 افراد جاں بحق ہوئے۔
سال کے دوران پٹاخوں کی فیکٹری میں دھماکے میں 5، گیس سلنڈر پھٹنے سے 11، چھت گرنے کے حادثات میں 95، ٹرین کی ٹکر سے 51، پانی میں ڈوبنے سے 85، جھلسنے سے 21، کرنٹ لگنے سے 133 اور گٹر میں گرنے سے 15 افراد ہلاک ہوئے۔ کھلے نالوں میں ڈوبنے کے واقعات میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔
خودکشی کے واقعات میں 123 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ طبعی طور پر 263 افراد اسپتال منتقل کیے گئے اور 35 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں بھی برآمد ہوئیں۔ منشیات کے زیادہ استعمال کے باعث 400 افراد (395 مرد اور 5 خواتین) کی لاشیں شہر کے مختلف علاقوں سے اٹھائی گئیں، جن میں زیادہ تر لاوارث تھیں اور انہیں چھیپا قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
چھیپا فاؤنڈیشن کے ترجمان نے کہا کہ ادارے نے اپنی 40 سالہ انسانی خدمات کی روایت کے مطابق سال 2025 میں بھی شہریوں کو فوری اور ہنگامی ریلیف فراہم کیا اور چھیپا ایمبولینسز اور ریسکیو ٹیموں نے ہر حادثے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہلاک ہوئے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔