ترکیہ میں داعش کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، داعش سے وابستہ 350 سے زائد مشتبہ افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
ترکیہ میں سکیورٹی فورسز نے دہشتگرد تنظیم داعش کے خلاف ملک گیر کارروائی کرتے ہوئے 350 سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد میں وہ عناصر بھی شامل ہیں جو نئے سال کی تقریبات کے دوران حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:ترکیہ میں کرسمس تقریبات کو نشانہ بنانے کی داعش سازش ناکام، 115 افراد گرفتار
ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلی کایا نے بتایا ہے کہ داعش کے خلاف کارروائی کے دوران ملک بھر سے مجموعی طور پر 357 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم این سوسیل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں ایک ہی وقت میں 21 صوبوں میں کی گئیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق یہ آپریشنز صوبائی پولیس، چیف پبلک پراسیکیوٹرز کے دفاتر، انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس یونٹس کے باہمی تعاون سے کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
اس سے قبل استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا تھا کہ شہر میں 110 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 41 کا تعلق یالووا صوبے میں پیش آنے والے حالیہ دہشت گرد واقعے سے تھا۔ پیر کے روز یالووا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران داعش کے چھ دہشت گرد مارے گئے تھے۔
حکام کے مطابق استنبول میں گرفتار ہونے والے مشتبہ افراد نئے سال کی تقریبات کے دوران شہر میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا نائیجیریا میں داعش کے خلاف فضائی حملہ، متعدد شدت پسند ہلاک
ادھر انقرہ کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے بھی 17 داعش مشتبہ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی تصدیق کی، جن میں 11 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ افراد دہشتگرد تنظیم کی رکنیت اور تنازعہ زدہ علاقوں سے رابطوں کے الزامات میں مطلوب ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت گزشتہ تحقیقات کے دوران قبضے میں لیے گئے ڈیجیٹل مواد اور دستاویزات کے تجزیے سے کی گئی، جبکہ چھاپوں کے دوران مزید ڈیجیٹل مواد اور تنظیمی دستاویزات بھی برآمد ہوئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استنبول انقرہ ترکیہ داعش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استنبول ترکیہ داعش کے خلاف مشتبہ افراد کے دوران
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔