data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251231-08-9
لاہور (مانیٹر نگ ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کا تحریری حکم جاری کرد یا، عدالت نے سرکاری وکیل کو متعدد نکات پر ہدایات لیکر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے محمد شہباز کی درخواست پر 3 صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کر دیا۔عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ سرکاری وکیل نے بتایا کہ خصوصی افراد کے تحفظ کیلیے بنائے گئے قانون پرعملدرآمد کرانے کیلیے تمام محکموں کو ہدایت جاری کر دی ہیں، عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سے متعدد نکات پر جواب طلب کر لیا ہے۔تحریری حکم میں رپورٹ مانگی گئی ہے کہ کیا محکمہ سوشل ویلفیئر نے خصوصی افراد کے سرٹیفکیٹس کیلیے ڈیجیٹل سسٹم بنایا؟ کیا خصوصی افراد کیلیے سافٹ ویئر یا ایسی موبائل ایپ بنائی جس سے ہنگامی مدد میسر آ سکے؟ کیا محکمہ سوشل ویلفیئر نے صوبے کی سطح پر خصوصی افراد کا ڈیٹا مرتب کیا ہے یا نہیں؟۔ خصوصی افراد کے کوٹے پر عملدرآمد نہ ہونے پر کیا ایکشن لیے گئے؟ کیس کی مزید سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خصوصی افراد کے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری