ایم ڈبلیو ایم رہنماء مولانا سہیل اکبر شیرازی سے بلوچستان میں ایم ڈبلیو ایم کے کردار سے متعلق خصوصی گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز نے مولانا سہیل اکبر شیرازی سے ایم ڈبلیو ایم کیجانب سے جنوبی اور شمالی بلوچستان کی ورکنگ کمیٹیز کی تشکیل کے بعد جنوبی بلوچستان میں ایم ڈبلیو ایم کے کردار اور ایم ڈبلیو ایم کے اہداف کے حصول سے متعلق گفتگو کی۔ اس موقع پر مولانا سہیل اکبر شیرازی نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا ویژن ہر سطح پر متعارف کروایا جا رہا ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان میں بھی ایم ڈبلیو ایم کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم بلوچستان میں صوبائی حکومت کا بھی حصہ رہی ہے اور بلوچستان میں بھرپور سیاسی کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنیکی کوشش کی ہے۔ متعلقہ فائیلیںمولانا سہیل اکبر شیرازی مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی رہنماء ہیں۔ جو اسوقت ایم ڈبلیو ایم جنوبی بلوچستان کی ورکنگ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کی تحصیل گنڈاواہ سے تعلق رکھنے والے مولانا سہیل اکبر شیرازی اس سے قبل ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے چکے ہیں۔ انکا شمار ایم ڈبلیو ایم کے فعال رہنماؤں میں ہوتا ہے، جو بلوچستان میں پارٹی کی مختلف سرگرمیوں کی قیادت کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے مولانا سہیل اکبر شیرازی سے ایم ڈبلیو ایم کیجانب سے جنوبی اور شمالی بلوچستان کی ورکنگ کمیٹیز کی تشکیل کے بعد جنوبی بلوچستان میں ایم ڈبلیو ایم کے کردار اور ایم ڈبلیو ایم کے اہداف کے حصول سے متعلق گفتگو کی۔ اس موقع پر مولانا سہیل اکبر شیرازی نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا ویژن ہر سطح پر متعارف کروایا جا رہا ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان میں بھی ایم ڈبلیو ایم کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم بلوچستان میں صوبائی حکومت کا بھی حصہ رہی ہے اور بلوچستان میں بھرپور سیاسی کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنیکی کوشش کی ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم ڈبلیو ایم کے کہ ایم ڈبلیو ایم بلوچستان میں
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔