سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات منظور کئے جائیں، ایم ڈبلیو ایم بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ علی حسنین نے بلوچستان کے سرکاری ملازمین کیجانب سے جاری احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انکے جائز مطالبات منظور کئے جائیں۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی رہنماء علامہ علی حسنین حسینی نے بلوچستان کے سرکاری ملازمین کی جانب سے جاری احتجاج کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارم 47 سے قائم ہونیوالی جعلی حکومت کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اسمبلی میں جعلی نمائندوں کو بھیجنے کے ثمرات اب سامنے آنے لگے ہیں کہ سرکاری ملازمین کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری احتجاج میں اسمبلی کا کوئی بھی نام نہاد نمائندہ نہیں آیا۔ یوں لگ رہا ہے کہ فارم 47 کے جعلی حکمران عوام کا سامنا کرنے سے خوفزدہ ہیں اور ہر جگہ منہ چھپا کر پھر رہے ہیں۔ اپنے جاری بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ علی حسنین نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان سرکاری ملازمین کی مشترکہ تنظیم بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے جاری احتجاج کی حمایت کرتی ہے۔ ملازمین کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر شخص کا آئینی حق ہے۔ جہاں دنیا بھر میں احتجاج کو جمہوریت کا حسن کہا جاتا ہے وہی بلوچستان حکومت ہر مظاہرے کو دبانے کی کوشش کرتی ہے اور مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالتی ہے۔ جو کہ ایک غیر جمہوری رویہ ہے۔ اسی طرح سرکاری ملازمین پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جو قابل مذمت ہے۔ علامہ علی حسنین نے کہا کہ حکومت روز اول سے ہر طبقے کو دھوکہ دیتی آ رہی ہے۔ ملازمین کو بھی گزشتہ 6 ماہ سے دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت صوبے کو سنبھالنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے جائز مطالبات جلد از جلد منظور کئے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین کی علامہ علی حسنین کے جائز
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔