پشاور میں محکمہ تعلیم کا ملازمین کو سیاسی سرگرمیوں سے روکنے کے لیے ڈی ای اوز کو خط
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
خط میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام سرکاری ملازمین کو کسی سیاسی مہم میں حصہ لینے سے روکا جائے۔کیونکہ انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنی سرکاری حیثیت کا استعمال کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ تعلیم پشاور نے ملازمین کو سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بننے سے روکنے کے لیے ڈی ای اوز کو خط لکھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق خط کے متن میں بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین خود کو سیاسی سرگرمیوں میں شامل کر رہے ہیں۔ ملازمین مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سیاسی وابستگیوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ خط میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام سرکاری ملازمین کو کسی سیاسی مہم میں حصہ لینے سے روکا جائے۔کیونکہ انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنی سرکاری حیثیت کا استعمال کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ خط کے متن مزید کہا گیا کہ ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو سیاسی نظریات کی تشہیر کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے، علاوہ ازیں خلاف ورزی پر جرمانوں کے ساتھ نوکری سے برخاستگی ہوسکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملازمین کو کو سیاسی کیا گیا کے لیے گیا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔