بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کا سابق وزیرِ اعظم بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر اظہارِ افسوس
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے سابق وزیرِ اعظم، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور جمہوریت کی جدوجہد کی نمایاں رہنما بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے تعزیتی پیغام میں پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ قوم ’ایک عظیم سرپرست‘ سے محروم ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیگم خالدہ ضیاء صرف ایک سیاسی جماعت کی قائد نہیں تھیں بلکہ وہ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم اور ناقابلِ فراموش حصہ تھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت نے ان کی عوامی خدمات اور عوامی مقبولیت کے اعتراف میں انہیں پہلے ہی ’ریاست‘ کی نہایت اہم شخصیت (Very, Very Important Person of the State) قرار دیا تھا۔
چیف ایڈوائزر نے کہا کہ کثیر الجماعتی جمہوریت کی بحالی، سیاسی حقوق کے تحفظ اور آمریت کے خلاف مزاحمت میں بیگم خالدہ ضیاء کا کردار ہمیشہ عزت اور احترام سے یاد رکھا جائے گا۔
ان کے مطابق، ان کی مضبوط قیادت نے کئی نازک ادوار میں قوم کو حوصلہ اور سمت فراہم کی۔ شدید سیاسی اختلافات کے باوجود، انہوں نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء کی طویل عوامی زندگی قومی مفاد اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کی عکاس تھی۔
ان کی سیاسی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یونس نے بتایا کہ بیگم خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں اور انہوں نے سیاست میں قدم اپنے شوہر، سابق صدر اور آرمی چیف ضیاءالرحمان کے 1981 میں قتل کے بعد رکھا۔ ان کی قیادت نے 1980 کی دہائی کے اواخر میں جنرل ایچ ایم ارشاد کی طویل آمریت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء کی حکومت نے خواتین کے لیے مواقع میں نمایاں اضافہ کیا، خصوصاً بچیوں کے لیے مفت تعلیم اور وظائف کے اجراء کو خواتین کی تعلیم میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کبھی پارلیمانی انتخابات میں شکست سے دوچار نہیں ہوئیں اور 1991 سے 2008 تک متعدد حلقوں سے کامیابی حاصل کرتی رہیں۔
چیف ایڈوائزر کے مطابق، بیگم خالدہ ضیاء نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں معاشی اصلاحات اور آزاد معیشت کی بنیاد رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ بعد کے برسوں میں سیاسی محاذ آرائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مبینہ ’فاشسٹ‘ دورِ حکومت میں ایک طاقتور اپوزیشن کی علامت بن کر ابھریں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بدعنوانی کے مقدمات میں ان کی قید سیاسی انتقام کا نتیجہ تھی اور ان کے حامی آج بھی ان مقدمات کو من گھڑت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، بیگم خالدہ ضیاء نے طویل عرصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
آخر میں پروفیسر محمد یونس نے مرحومہ کے اہلِ خانہ، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان سے تعزیت کا اظہار کیا اور قوم سے اپیل کی کہ وہ اس ’ناقابلِ تلافی قومی نقصان’ کے موقع پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور بیگم خالدہ ضیاء کے لیے دعا کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش نے کہا کہ انہوں نے یونس نے کے لیے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔