data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251231-01-16
راولپنڈی(نمائندہ جسارت) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ ہر منگل یہاں آتا ہوں لیکن افسوس کے ساتھ ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، حالات بدلنے کے لیے ملاقات کی بھیک مانگتا ہوں، 2025 گزر گیا اب تو حالات بدلنے چاہئیں۔راولپنڈی اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک اپنی جگہ لیکن مذاکرات بھی ہونے چاہئیں، حالات جیسے تقاضے کر رہے ہیں مذکرات ویسے نہیں ہو رہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صاحب اقتدار سے درخواست کرتا ہوں کہ حالات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دل بڑا کریں، اس ملک کے قوم کے بچوں پر رحم کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے سسٹم رک گیا ہے، نہ رکتا تو روز یہاں کھڑے نہ ہوتے، عدالتی آرڈر ایس او پیز کے تحت جاری ہیں، طریقہ نکالیں جس سے حالات بہتر ہوں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس سال دو سزائیں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ہوئیں، 2025ء میں دشمن کے ساتھ سیز فائر ہوا لیکن ہمارا آپس کا تناؤ ختم نہیں ہوا۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ 2026ء میں داخل ہو رہے ہیں اور لگتا ہے یہ سال بھی سزاؤں کا سال ہوگا۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود