ایس ایس یو کی سالانہ کارکردگی رپورٹ 2025 جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ پولیس کی ایلیٹ فورس اسپیشل سیکورٹی یونٹ (SSU) کی سالانہ کارکردگی رپورٹ 2025 جاری کر دی گئی ہے، جس میں ڈی آئی جی سیکورٹی ڈاکٹر مقصود احمد کی قیادت میں یونٹ کی شاندار آپریشنل، سیکورٹی، ریسکیو اور تربیتی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایس ایس یو اور اس کی اسپیشل فورس SWAT نے سال 2025 کے دوران دہشت گردوں کے خلاف متعدد مشترکہ آپریشنز میں فعال کردار ادا کیا اور امن و امان کے قیام میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ آتشزدگی، عمارت گرنے اور دیگر ہنگامی صورتحال میں بھی ایس ایس یو کے فوری اور مؤثر ریسکیو آپریشنز کو سراہا گیا۔کارکردگی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایس ایس یو نے سال بھر کے دوران اہم شخصیات کے 1400 دوروں کے موقع پر جامع اور فول پروف سیکورٹی فراہم کی۔ سندھ بھر میں حساس اور بڑی ثقافتی و مذہبی تقریبات کے دوران بھی سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے، جن میں 42 بڑی تقریبات شامل تھیں۔اسی طرح 2025 کے دوران ہونے والے بڑے کرکٹ ایونٹس میں بھی ایس ایس یو کا کردار کلیدی رہا۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی، ٹرائی نیشن سیریز اور پی ایس ایل 10 کے میچز کے دوران ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں اور آفیشلز کی فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنایا گیا۔ حساس مقامات پر اسنائپرز اور SWAT ٹیم کی اسٹریٹجک ڈپلائمنٹ بھی رپورٹ کا اہم حصہ رہی۔رپورٹ کے مطابق کندھ کوٹ،گھوٹکی پل کی تعمیر کے دوران ایس ایس یو کمانڈوز نے 24 گھنٹے سیکورٹی کے فرائض انجام دیے، جبکہ دیگر حساس تنصیبات پر بھی مسلسل نگرانی اور حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ایس ایس یو نے سال 2025 میں دیگر سرکاری اداروں کو خصوصی ٹریننگ فراہم کی، جبکہ مسلح افواج کے اداروں میں بھی ایس ایس یو کمانڈوز کی جدید تربیت کا سلسلہ جاری رہا۔ کاؤنٹر ٹیررازم، وی وی آئی پی پروٹیکشن، سوئمنگ کورسز، ہنگامی صورتحال اور دہشت گردی سے نمٹنے کی عملی تربیت رپورٹ کا اہم حصہ رہی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تیسری پولیس ایکسٹریم ہینڈگن چیمپئن شپ 2025 کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جس میں چار کیٹیگریز میں ملک بھر سے شوٹنگ ٹیلنٹ نے بھرپور شرکت کی۔ فاتحین میں میڈلز، نقد انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس ایس یو کے دوران
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔