سال 2025، پارلیمنٹ میں عوامی مفادات سے زیادہ سیاسی مفاد حاوی رہا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
پاکستان کاسب سے بڑا قانون سازادارہ پارلیمنٹ سال2025 میں سیاسی انتشار کا شکار رہا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی گرما گرمی سڑکوں اور چوراہوں کے بعد پارلیمنٹ میں بھی دیکھنے کو ملی۔
تفصیلات کے مطابق سال 2025 اپنے اختتام کو پہنچ گیا اور ہم چند گھنٹوں کے بعد نئے سال 2026 میں نئی امیدوں اور عزم کے ساتھ داخل ہوں گے۔
سال 2025 کے دوران پارلیمنٹ کے اندر کیا ہوا، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
مجموعی طور پر سارا سال پارلیمنٹ میں سیاسی انتشار رہا اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان گرما گرمی برقرار رہی۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی کے سبب باہر کی طرح پارلیمنٹ کے اندر بھی سیاسی مفادات عوامی مسائل پر حاوی رہے اور اپوزیشن سراپا احتجاج رہی جبکہ ایوان مچھلی منڈی بنا رہا۔
پارلیمنٹ میں سال2025کے دوران قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مجموعی طور پر 126 بل پیش کیے گئے حکومت نے دونوں ایوانوں میں 56 جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران نے انفرادی طور پر 70 قوانین متعارف کروائے۔
ان میں سے صرف 38 قوانین ایکٹ آف پارلیمنٹ کا درجہ اختیار کر سکے جبکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسوں سے 12 قوانین کو منظور کروایا گیا۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کی دوران حکومت نے تیز ترین آئین سازی اور قانون سازی کے نئے ریکارڈ قائم کر ڈالے۔
وفاقی آئینی عدالت کے قیام، آرٹیکل243 میں ترمیم ، جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے نام سے نئے عہدے متعارف کروائے گئے۔
وہیں فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین پاکستان میں 27ویں ترمیم کر ذریعے ریگولرائز کیا گیا۔ فیلڈ مارشل ،صدر مملکت کو تاحیات استثنی سے متعلق 27ویں آئینی ترمیم سیاسی تنازعات کا شکار رہے اور اقلیت کے باجود حکومت کو آئین سازی کا عمل مکمل کرنے کیلئے اپوزیشن اراکین کی فلور کراسنگ کا سہارا لینا پڑا۔
دوسری مسلح افواج سے متعلق آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹ، پریکٹس اینڈ پروسیجر، اور الیکشن ایکٹ سے متعلق قوانین میں ترمیم نے پورے ملک کی توجہ اپنے جانب مرکوز کیے رکھی۔
پارلیمنٹ سے منظور الیکشن ایکٹ میں ترمیم اور عدالتی فیصلوں کے سبب پی ٹی آئی کے اراکین کی حیثیت آزاد قرار دیکر مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو بانٹ دی گئی۔۔ جس نے حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی بات زیر غور نہیں، وفاقی وزیر
1973ء کا آئین اور 27ویں آئینی ترمیم
سینیٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا سینیٹ انتخابات میں حکمران اتحاد کو تین اضافی نشستیں حاصل کرنے میں مدد ملے، دوسری جانب 9مئی مقدمات میں سزاؤں سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز، پارلیمانی لیڈر سرتاج گل، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر احمد چٹھہ سمیت صاجزادہ حامد رضا کو اسمبلی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑے۔
پارلیمانی سطح پر کی جانے والی قانون سازی اورسیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی محاذ آرائی نے جہاں نہ ختم ہونے والے سیاسی تنازعات کو جنم دیا وہیں جمہور میں بڑھتی بے چینی کو ختم کرنے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا حصول نئے سال میں قومی سیاست اور پارلیمان کا اصل امتحان ہوگا۔
اقتدار کے ان ایوانوں میں سال 2025 میں جہاں اقلیتی بنچز کو اکثریت میں بدلتے دیکھا گیا وہیں دوسری جانب قانون سازی میں عوامی مفاد کا تاثر کم جبکہ سیاسی مفادات کے حصول کی کاوشیں دیکھنے میں زیادہ نظر آئیں اور سیاسی مفادات عوامی مسائل پر حاوی رہے۔
سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے 11 اجلاس اور پارلیمنٹ کے دو مشترکہ اجلاس منعقد ہوئے، قومی اسمبلی کے 11 اجلاسوں میں 85 سٹنگز 222 گھنٹے 17 منٹ پر محیط رہیں جبکہ پارلیمنٹ کے دو مشترکہ اجلاس دو گھنٹے 58 منٹ جاری رہے۔
سال 2025 کا سال قومی اسمبلی میں قانون سازی کے حوالے سے بہت اچھا سال رہا،اس سال سب سے بڑی قانون سازی 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری ہے۔
رواں سال کے دوران مجموعی طور پر 6694 نشاندہی سوالات جبکہ 869 غیر نشاندہی سوالات جمع کروائے گئے، 1442 نشاندہی سوالات کے جوابات اور 313 غیر نشاندہی سوالات کے جوابات موصول ہوئے،1395 جمع کروائے گئے سوالات لیپس ہو گئے جبکہ 285 سوالات کو نامنظور کردیا گیا۔
اس سال کے دوران کل 25 قراردادیں قومی اسمبلی میں پیش کی گئیں،رواں سال کے دوران 336 توجہ دلاؤ نوٹسز قومی اسمبلی میں پیش کیئے گئے، ان میں سے 53 توجہ دلاؤ نوٹسز پر ایوان میں بحث ہوئی۔
سال 2025 کے دوران 11 تحریک التوا قومی اسمبلی میں پیش ہوئیں تاہم ان تمام تحریک التوا پر بحث نہیں کروائی گئی، اس سال کے دوران مجموعی طور پر 33 تحاریک استحقاق قومی اسمبلی میں پیش کی گئیں،ان میں سے 6 تحاریک استحقاق متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی گئیں جبکہ 16تحاریک زیر غور ہیں اور 9 تحاریک استحقاق مسترد جبکہ دو تحاریک استحقاق واپس لے لی گئیں۔
رواں سال کے دوران مجموعی طور پر 295 موشن انڈر رول 259 موصول ہوئے، ان میں سے 55 موشن انڈر رول 259 کو آرڈر آف دی ڈے پر لایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے دوران مجموعی طور پر قومی اسمبلی میں پیش نشاندہی سوالات تحاریک استحقاق پارلیمنٹ میں سال کے دوران پارلیمنٹ کے کے درمیان پیش کی سال 2025
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔