مقبوضہ کشمیر، موسم سرما میں آتشزدگی کے واقعات میں تیزی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
ذرائع کے مطابق مقبوضہ علاقے کے محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے جاری کردہ اعدادوشمار میں کہا گیا کہ سرینگر کی عمر کالونی میں ایک تین منزلہ رہائشی مکان کو آتشزدگی کے باعث نقصان پہنچا جبکہ ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور دیوان باغ میں ایک سکول عمارت آگ لگنے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں موسم سرما کے دوران آتشزدگی کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ گزشتہ 2روز کے دوران مقبوضہ وادی کشمیر میں آگ لگنے کے مزید 11 واقعات رونما ہوئے اور کئی عمارتوں اور ڈھانچوں کو نقصان پہنچا۔ ذرائع کے مطابق مقبوضہ علاقے کے محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے جاری کردہ اعدادوشمار میں کہا گیا کہ سرینگر کی عمر کالونی میں ایک تین منزلہ رہائشی مکان کو آتشزدگی کے باعث نقصان پہنچا جبکہ ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور دیوان باغ میں ایک سکول عمارت آگ لگنے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع گاندر بل کے علاقے صفاپورہ میں ایک مویشی خانہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ شوپیاں میں آتشزدگی کے باعث ایک دکان جل گئی، کولگام کے علاقے قاضی گنڈ میں دو منزلہ گھر جل گیا۔ وادی کے دیگر علاقوں میں بھی اسی طرح کے کئی واقعات رونما ہوئے۔ محکمہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ فائر سیفٹی ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں اور آتشزگی سے متعلق کسی بھی ہنگامی صورتحال کے موقع پر فوری طور پر فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کو مطلع کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آتشزدگی کے کے علاقے میں ایک
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک