ایردواں کا اسرائیل کو واضح پیغام: صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا ناقابلِ قبول ہے
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
ترکی کے صدر رجب طیب ایردواں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو خود ساختہ جمہوریہ کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے، اور اس سے افریقہ میں سیاسی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔
استنبول میں صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایردواں نے کہا کہ ترکیہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کو تسلیم نہیں کرے گا جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بنے۔
صدر ایردواں نے بتایا کہ ترکیہ اور صومالیہ کے درمیان طے پانے والے دوطرفہ معاہدے کے تحت ترکیہ 2026 میں صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں توانائی کے وسائل کی تلاش کے لیے کھدائی کا آغاز کرے گا، اور اس منصوبے کے لیے دو نئے تحقیقی جہاز بھی شامل کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ترکیہ صومالیہ میں دوطرفہ معاہدوں کے تحت ایک خلائی بندرگاہ قائم کرنے کا منصوبہ بھی رکھتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ماہرین کے مطابق ترکیہ اور صومالیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں اقتصادی ترقی اور توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ اسرائیل کے حالیہ فیصلے پر خطے میں سیاسی ردعمل میں اضافہ متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صومالیہ کے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔