Al Qamar Online:
2026-07-24@05:56:54 GMT

بلوچستان کے شمالی اضلاع میں برف اور بارش سے سردی کی لہر

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

نئے سال 2026 کی آمد سے چند گھنٹے قبل بلوچستان کے شمالی اور مغربی اضلاع قدرتی حسن کے دلکش نظاروں میں ڈھل گئے، جہاں شدید برفباری اور بارش نے پورے خطے کو جنت نظیر  بنادیا۔

زیارت، توبہ اچکزئی، کان مہترزئی، چمن، قلعہ عبداللہ اور قلات کے پہاڑی علاقوں میں ہونے والی بھاری برفباری کے باعث وادیاں، پہاڑ اور درخت سفید چادر میں لپٹ گئے جب کہ میدانی علاقوں میں بارش کے باعث موسم خوشگوار مگر شدید سرد ہو گیا ہے۔

کوئٹہ، پشین، مستونگ، نوشکی اور ژوب میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بعض علاقوں میں درجہ حرارت منفی 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے، جس کے باعث سرد ہواؤں نے شہریوں کو گھروں میں محدود ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کے باوجود لوگ قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے پہاڑی علاقوں کا رخ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

مغربی ہواؤں کا یہ طاقتور سلسلہ 29 دسمبر کی شب بلوچستان میں داخل ہوا تھا، جو 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران پہاڑی علاقوں میں مزید برفباری جب کہ میدانی اضلاع میں بارش کے امکانات موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نظام نہ صرف موسم کو سرد بنائے گا بلکہ طویل خشک سالی کے بعد آبی وسائل کے لیے بھی خوش آئند ثابت ہوگا۔

زیارت کی مشہور جونیپر وادیاں، جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت کے لیے دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہیں، مکمل طور پر برف سے ڈھک چکی ہیں۔ ان مناظر نے مقامی افراد کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے سیاحوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے۔ بڑی تعداد میں سیاح زیارت اور کان مہترزئی پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ برفباری کے حسین لمحات کو کیمروں میں قید کر کے یادگار بنا رہے ہیں۔

زیارت اور کان مہترزئی کے برفانی مناظر کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جنہیں صارفین نئے سال کے موقع پر قدرت کا حسین تحفہ قرار دے رہے ہیں۔ سفید پہاڑ، برف سے لدے درخت اور بادلوں میں لپٹے راستے بلوچستان کے ایک مختلف اور دلکش چہرے کو نمایاں کر رہے ہیں، جو عام دنوں میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

دوسری جانب شدید برفباری اور بارش کے باعث بعض مشکلات بھی سامنے آئی ہیں۔ کوئٹہ سے زیارت اور چمن جانے والی سڑکوں پر پھسلن کے سبب ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جب کہ کچھ علاقوں میں گاڑیوں کو سست روی کا سامنا کرنا پڑا۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جس سے شہریوں کو مشکلات پیش آئیں۔

کوئٹہ شہر میں بارش کے دوران متعدد بجلی کے فیڈرز ٹرپ ہو گئے، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہی۔ صورتحال کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور دوران سفر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل علاقوں میں کے باعث بارش کے رہے ہیں

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل