کراچی؛ ڈبل ڈیکر بس کا روٹ، ٹکٹ اور مسافروں کیلیے سہولیات کی تفصیلات سامنے آ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
کراچی:
کراچی میں متعارف کروائی گئی ڈبل ڈیکر بس کے روٹ، ٹکٹ اور مسافروں کے لیے سہولیات سمیت دیگر تفصیلات سامنے آ گئیں۔
شہر قائد میں آج سے ڈبل ڈیکر بس کا افتتاح کردیا گیا ہے، جسے فی الحال آزمائشی طور پر چلایا گیا ہے، تاہم اسے بعد میں توسیع دیتے ہوئے سندھ حکومت نے شہر بھر میں چلانے کا اعلان کیا ہے۔
پیپلز بس سروس کے آپریشن منیجر عبدالشکور نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ حکومت کے تحت آج سے ڈبل ڈیکر بس سروسز کا آغاز ہوگیا ہے، جس کی ابتدائی طور پر 5 بسیں چلائی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس بس کا روٹ ملیر سے فوارہ چوک شاہراہ فیصل تک ہوگا۔ بس میں 120مسافروں کے لیے نشستیں ہیں جب کہ خواتین کا حصہ الگ ہے۔بس کی اوپری چھت کو کھولنے اور بند کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔چھت کھول کر مسافر موسم سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔
مزید پڑھیںماضی کی یاد تازہ؛ نصف صدی کے بعد ڈبل ڈیکر بسیں کراچی کی سڑکوں پر، ویڈیو دیکھیں
علاوہ ازیں بس میں حفاظت کے لیے سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔آگ لگنے کی صورت میں اس کو بجھانے کے آلات بھی موجود ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ بسیں مکمل طور پر ایئرکنڈیشنڈ ہیں تاکہ گرمی کی شدت سے محفوظ رہا جاسکے ۔ڈبل ڈیکر بسوں کا کم ازکم کرایہ 80 اور زیادہ سے زیادہ 120 روپے ہے۔یہ بس علی الصبح سے رات تک چلائی جائے گی، تاہم ابتدائی مرحلے میں اس کی سروس آزمائشی بنیاد پر ہے۔ اس سہولت کی کامیابی کے بعد مزید ڈبل ڈیکر بسیں کراچی کے مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈبل ڈیکر بس
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔