جرمنی میں فلمی انداز کی واردات، دیوار توڑ کر بینک لوٹ لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جرمنی میں بینک ڈکیتی کی ایک غیر معمولی واردات سامنے آئی ہے، جہاں چوروں نے بینک کے مرکزی دروازے کے بجائے دیوار میں سوراخ کر کے بڑی رقم اور قیمتی سامان پر ہاتھ صاف کر دیا۔
یہ انوکھی چوری جرمنی کے مغربی شہر گیلسن کرچن میں واقع اسپارکاس بینک کی ایک برانچ میں پیش آئی، جس نے شہریوں اور حکام دونوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملزمان نے کرسمس کی تعطیلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منصوبہ بندی کے تحت بینک کی دیوار میں سوراخ کیا اور اندر داخل ہو کر تقریباً ایک کروڑ یورو کے مساوی رقم کے ساتھ قیمتی اشیاء بھی لوٹ لیں۔ واردات کے بعد چور بغیر کسی مزاحمت کے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈکیتی کا انکشاف اس وقت ہوا جب بینک میں نصب فائر الارم اچانک فعال ہوا۔ اگلے روز جب بینک صارفین کو چوری کا علم ہوا تو درجنوں مشتعل افراد بینک کے باہر جمع ہو گئے اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرے لگائے۔
پولیس کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ہفتے کی رات انہوں نے ایک ملحقہ پارکنگ گیراج کی سیڑھیوں پر کئی افراد کو بڑے بڑے بیگ اٹھائے ہوئے دیکھا تھا، جس سے شبہ ہے کہ ملزمان واردات کے فوراً بعد اسی راستے سے فرار ہوئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ بینک کی سکیورٹی اور سی سی ٹی وی نظام کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔